مہاجرین کے دستے
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سفر میں سواری کے لیے صرف تیس اونٹ تھے اور مسلمان باری باری ان پر سوار ہوتے تھے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ آگے جا چکا ہے۔ یہاں آپ نے قبیلہ بنو مدلج سے معاہدہ کیا۔ اس معاہدہ کا خلاصہ یہ تھا کہ حملہ کے وقت مسلمان بنو مدلج کی مدد کریں گے اور بنو مدلج مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔ اس کے بعد آپ مدینہ واپس آگئے۔ اس سفر کے دس دن بعد یہ واقعہ ہوا کہ زبن جابر فہری نے مدینہ کی چراگاہ پر رات کے وقت چھاپا مارا، اور بہت سی بکریاں اور اونٹ لے کر بھاگ گیا۔ اس خبر کو سن کر آپ نے فوراً اس کا پیچھا کیا اور اپنے آدمیوں کے ساتھ صفوان تک گئے۔ مگر کرز بن جابر وہاں سے نکل چکا تھا۔ چنانچہ آپ صفوان سے مدینہ واپس آگئے۔ اطلاع نہ ہونے کے باعث کرز کے کے خلاف کوئی پیشگی دستہ نہ بھیجا جا سکا۔ رجب 2ھ میں آپ نے مہاجرین کا ایک دستہ نخلہ کی طرف روانہ کیا۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سر یہ میں بھیجنے کا ارادہ کیا اور فرمایا کہ تمہارے اوپر میں ایک ایسے شخص کو امیر بناؤں گا جو تم میں سب سے زیادہ بھوک اور پیاس پر صبر کرنے والا ہوگا۔ اگلے دن آپ نے عبد اللہ بن جحش کو اس دستہ کا امیر بنایا۔ اس دستہ میں کل نو آدمی تھے۔ آپ نے عبداللہ بن جحش کو ایک بند تحریر دی اور کہا کہ تم لوگ نخلہ کی طرف دو دن تک چلتے رہو۔ جب دو دن گزر جائیں تو تحریر کو کھول کر دیکھنا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ دو دن کے بعد جب عبداللہ بن جحش نے تحریر کھولی تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ جب تم میری اس تحریر کو دیکھو تو تم چلتے رہو، یہاں تک کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ کے مقام پر پہنچ کر ٹھہر جاؤ۔ اور قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھو اور ہمیں ان کی خبروں سے مطلع کرو (اذا نظرت فی کتابی هذا فامض حتى تنزل نخلة بين مكة و الطائف فتر صد بها قريشا و تعلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader