ابتدائی حالات
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
حلیمہ سعدیہ بیان کرتی ہیں کہ میں اپنی بستی سے قبیلہ کی چند عورتوں کے ساتھ اس تلاش میں نکلی کہ دودھ پینے والا بچہ ملے تو اس کو اپنے ساتھ لے آؤں۔ میں ایک گدھی پر سوار تھی۔ ہم لوگ پرمشقت سفر کے بعد مکہ پہنچے۔ ہم میں کوئی عورت ایسی نہ تھی جسکے سامنے ”محمد“ کو پیش نہ کیا گیا ہو۔ مگر جب اس کو معلوم ہوتا کہ آپ یتیم ہیں تو وہ آپ کو لینے سے انکار کر دیتی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم لوگ بچہ کے باپ کی طرف سے اچھے سلوک کی امید رکھتے تھے ۔ ہر عورت یہ سوچتی کہ جب وہ یتیم ہے تو اس کے ماں اور دادا سے کیوں کر اچھے سلوک کی امید کی جاسکتی ہے۔ اس لیے کسی ن نے آپ کو لینا پسند نہ کیا۔ حلیمہ سعدیہ کہتی ہیں کہ میرے ساتھ آئی ہوئی عورتوں میں سے ہر عورت کو کوئی نہ کوئی دودھ پینے والا بچہ مل گیا۔ صرف میں باقی رہ گئی۔ جب ہماری واپسی کا وقت آ گیا تو میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ خدا کی قسم، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی بچہ کو لیے بغیر یہاں سے واپس جاؤں۔ اب میں اس یتیم کے پاس جاؤں گی اور اس کو لے آؤں گی۔ میرے شوہر نے کہا کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے برکت دے دے۔ چنانچہ میں دوبارہ آپ کے گھر گئی اور آپ کو لے آئی۔ میرے اس فعل کا سبب اس وقت اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ مجھے آپ کے سوا کوئی اور بچہ نہ ملا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دو سال اور کچھ مہینے حلیمہ سعدیہ کے پاس رہے ۔ یہ زمانہ خود حلیمہ سعدیہ کے لیے بڑے خیر و برکت کا زمانہ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو آپ کی ماں کے پاس مکہ پہنچادیا ۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ آمنہ اور اپنے دادا عبد المطلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور حفاظت میں تھے۔ اللہ تعالیٰ جس مقام تک آپ کو پہنچانا چاہتا تھا، اس کے لحاظ سے آپ کی بہترین پرورش فرمارہا تھا۔ جب آپ چھ سال کے ہوئے تو آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader