Urdu book · سیرتِ رسول

مہاجرین کے دستے

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

لنا من اخبارهم) ۔ السرایا و البعوث للنبوية ، جلد 1، صفحہ 97 عبد اللہ بن جحش نے اس تحریر کو پڑھ کر کہا: سمعا و طاعة (میں نے سنا اور میں نے اطاعت کی) اگر چہ آگے جانا خطر ناک تھا، کیوں کہ وہ قریش کا علاقہ تھا اور ان سے مڈبھیڑ کا اندیشہ تھا۔ تاہم تحریر کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر آگے کے لیے روانہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ نخلہ میں پہنچ کر وہاں قیام کیا۔ اس وقت قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے واپس ہو کر مکہ جارہا تھا۔ مسلم جماعت کے ایک شخص واقد بن عبد اللہ نے قریش کے قافلہ کے سردار عمرو بن الحضرمی کو تیر مارا۔ وہ مر گیا۔ اس کے بعد وہ لوگ گھبرا کر بھاگ گئے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا دستہ مدینہ پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پورا قصہ بتایا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تم کو اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم حرام مہینہ میں قتال کرو: مَا أَمَرْتُكُمْ بِقِتَالٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ (سيرة ابن ہشام ، جلد 1 ، صفحہ 603)۔ یعنی ، تم کو قریش کے علاقہ کی طرف بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ تم قریش کی نقل و حرکت کی خبریں معلوم کرو، نہ یہ کہ تم قریش سے لڑائی چھیڑ دو۔ اس کے علاوہ سر یہ کا ایک مقصد دعوت بھی تھا۔ بعد کو آپ نے بہت سے دستے خالص دعوت و تبلیغ کے مقصد کے تحت مختلف قبائل کی طرف روانہ فرمائے۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عوف کو بلایا اور کہا کہ سفر کی تیاری کرو۔ کیوں کہ تم کو میں ایک سر یہ میں بھیجنے والا ہوں ۔ اس کے مطابق عبداللہ بن عوف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ وہ شام اور مدینہ کے درمیان دومة الجندل پہنچے۔ ان لوگوں کو تین دن تک اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ تیسرے دن الاصبغ بن عمرو الکلمی نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ نصرانی تھے اور اپنے قبیلہ کے سردار تھے۔ البراء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو اہل یمن کی طرف بھیجا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page