Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

تا کہ وہ انہیں اسلام کی طرف بلائیں۔ وہ لوگ چھ مہینہ تک ان کے درمیان رہے۔ مگر ان میں سے کسی نے اسلام قبول نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان کے نام ایک مکتوب روانہ فرمایا۔ جب ان کو آپ کا مکتوب پڑھ کر سنایا گیا تو قبیلہ ہمدان کے تمام افراد اسلام میں داخل ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر بھیجی گئی۔ آپ کو جب معلوم ہوا تو آپ سجدہ میں گر پڑے اور فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ اَلسَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ (السيرة النبوية لابن كثير، جلد 4، صفحہ 203)۔ یعنی، ہمدان پر سلامتی ہو، ہمدان پر سلامتی ہو۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو نجران کی طرف بھیجا۔ خالد بن الولید اور ان کے ساتھی اونٹوں پر سوار ہو کر ان کی بستیوں میں پھرتے تھے اور کہتے تھے: اَيُّهَا النَّاسُ، اَسْلِمُوا تُسْلِمُوا (سيرة ابن هشام، جلد 2، صفحہ 592)۔ یعنی، اے لوگو، اسلام قبول کرو، تم سلامت رہو گے۔ اس دعوتی گشت کے بعد ان میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 13 سال مکہ میں رہے۔ آپ کی دعوت توحید سے قریش کے مشرکانہ خیالات پر زد پڑتی تھی۔ انہوں نے یک طرفہ طور پر آپ کو ستانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ مکہ میں آپ کے لیے رہنا نا ممکن بنا دیا۔ اس وقت آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ آپ مکہ سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر نکلے تھے۔ تاہم اہل مکہ نے اب بھی دور تک آپ کا پیچھا کیا تا کہ آپ کو پکڑ کر مار ڈالیں۔ واقعات بتا رہے ہیں کہ مکہ چھوڑنے کے با وجود مکہ والوں نے آپ کو بھلایا نہیں ہے۔ اب بھی وہ آپ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا تھا کہ وہ لوگ مدینہ کے اوپر جارحانہ کارروائی نہ کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page