ہجرت کے بعد
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
ان حالات کے پیش نظر آپ نے مدینہ پہنچنے کے بعد مسلمانوں کے دستے مختلف مقامات پر بھیجنا شروع کیے جن کو سریہ کہا جاتا ہے۔ ان سرايا کا مقصد جنگ نہیں تھا۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں ان سرايا کے تذکرہ میں اس قسم کے الفاظ آتے ہیں: وَلَمْ یَلْقَ کَيْدًا فَلَمْ يَکُنْ بَیْنَهُمْ قِتَالٌ (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 591) ۔ یعنی، ان میں جنگ اور مڑ بھیڑ نہیں ہوئی۔ ہجرت کے بعد ابتدائی ایام میں ابواء، بواط، عشیرہ وغیرہ نام کے سرايا پیش آئے۔ ان سرايا کے تذکرہ میں سیرت کی کتابوں میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں: لَیْسَ فِیْهِمْ مِنَ الْأَنْصَارِ أَحَد (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 591) ۔ ان میں کوئی انصاری نہ تھا۔ انصار کو ان مہموں میں شامل نہ کرنے کی مصلحت غالباً یہ تھی کہ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ جو مخاصمت قریش اور مہاجرین کے درمیان قائم ہو چکی ہے، وہ قبل از وقت انصار تک وسیع ہوجائے۔ ان سرايا کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مقصد ابتداء دو تھا۔ اول، مکہ کے اطراف کے قبائل سے صلح کے معاہدے کرنا تا کہ قریش کو ان قبائل سے کاٹا جا سکے۔ قریش اپنی جارحانہ کارروائیوں میں ان کو اپنا شریک نہ بنا سکیں۔ چنانچہ غزوہ العشیرہ کے ذیل میں یہ الفاظ آتے ہیں: فَصَالَحَ بِهَا بَنِي مُدْلِجٍ وَحُلَفَاءَهُمْ مِنْ بَنِي ضُمْرَةَ فَوَدَاعُهُمْ (سیرۃ ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 363) ۔ ان سرايا کا دوسرا مقصد قریش کی نقل و حرکت کا پتہ لگانا تھا۔ چنانچہ سر یہ صفوان کے ذیل میں آتا ہے کہ آپ نے سر یہ کے سردار کو یہ تحریری ہدایت کی کہ فَسُرَّ صُدَّ بِهَا قُرَيْشًا، وَتَعَلَّمْ لَنَا مِنْ أَخْبَارِهِمْ (تفسیر القرطبی، جلد 3، صفحہ 41) ۔ ان سرايا میں تیسرا سبب اس واقعہ سے پیدا ہوا ہے جس کو اہل مدینہ کے اوپر اہل مکہ کی پہلی جارحیت کہا جا سکتا ہے۔ غزوہ عشیرہ سے واپسی کے بعد آپ نے تقریباً دس دن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader