Urdu book · سیرتِ رسول

ہجرت کے بعد

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

مدینہ میں قیام کیا تھا کہ قریش کے ایک سردار کرز بن جابر فہری نے مدینہ کے مسلمانوں کی ایک چراگاہ پر چھاپا مارا اور مسلمانوں کے اونٹ اور بکریاں لے کر بھاگ گیا (سیرۃ ابن ہشام جلد 2، صفحہ 238)۔ اس واقعہ کے پیش نظر قریش کی حوصلہ شکنی ضروری تھی۔ چنانچہ آپ نے قریش کے تجارتی قافلوں کے اوپر دستے بھیج کر قریش کو متنبہ کیا کہ اگر تمہاری معاشیات کو برباد کرنا چاہتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھو۔ ایک سر یہ (عبد اللہ بن جحش) میں ایسا ہوا کہ ایک مسلمان نے ایک کافر کو قتل کر دیا۔ اس قتل کے سلسلہ میں بعض روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَكَانَ ابْنُ الْحَضْرَمِيّ أَوْلَ قَتِيْلٍ قُتِلَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَ الْمُشْرِكِينَ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 432)۔ اس بنا پر بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ پہنچ کر اسلام نے صبر کا طریقہ چھوڑ کر جنگ کا طریقہ اختیار کر لیا۔ اور ابن الحضرمی کا قتل گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اب اسلام کی طرف سے مسلح جدوجہد کا آغاز ہو چکا ہے۔ مگر واقعہ کی تفصیلات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ رجب 2 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جحش کی سرکردگی میں ایک دستہ نخلہ کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ کل بارہ آدمی تھے۔ روانہ کرتے ہوئے آپ نے سردار سر یہ کو ایک بند تحریر دی اور فرمایا کہ اس کو اس وقت تک نہ کھولنا جب تک تم دو دن کا راستہ نہ طے کر لو۔ دو دن کا راستہ طے کرنے کے بعد اس کو کھولنا اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرنا۔ دو دن کے بعد جب حضرت عبد اللہ بن جحش نے اس تحریر کو کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا: جب تم میرے اس مکتوب کو دیکھو تو چلتے رہو یہاں تک کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page