Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مقام پر پہنچ کر اترو اور وہاں قریش کو دیکھو اور ہم کو ان کے حالات سے مطلع کرو: إِذَا نَظَرْتَ فِي كِتَابِي هَذَا فَامْضِ حَتَّى تَنْزِلَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالطَّائِفِ فَتَرْصُدُ بِهَا قُرَيْشًا، وَتَعْلَمُ لَنَا مِنْ أَخْبَارِهِمْ (تفسیر القرطبی، جلد 3، صفحہ 41)۔ اسی اثناء میں قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف جارہا تھا۔ دستہ کے ایک شخص واقد بن عبداللہ نے قافلہ کے سردار عمر بن الحضرمی کو نشانہ لگا کر ایک تیر مارا۔ یہ تیر کسی نازک مقام پر لگا اور وہ مرگیا۔ دستہ مدینہ واپس آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ قتل کا واقعہ بتایا تو آپ نے فوراً کہا: مَا أَمَرْتُكُمْ بِقِتَالٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 603)۔ یعنی، میں نے تم کو ماہ حرام میں کسی جنگ کا حکم نہیں دیا تھا۔ بالفاظ دیگر، اگر جنگ مقصود ہوتی تو کیا میں تم کو حرام مہینہ میں روانہ کرتا۔ غزوہ بدر اولیٰ جمادی الاولیٰ 2ھ ہجرت کے آخری زمانہ میں مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے درپے ہوگئے تھے۔ انکے بڑے بڑے سردار اپنی قومی مجلس دار الندوہ میں جمع ہوئے تا کہ اس معاملہ میں مشورہ کر کے آخری فیصلہ کریں۔ مشورہ میں کسی نے کہا کہ محمد کو پکڑ کر کوٹھری میں بند کر دو یہاں تک کہ اسی کے اندر ان کی موت آجاۓ۔ کسی نے کہا کہ ان کو مکہ سے جلا وطن کر دو۔ کسی نے کہا کہ تمام قبیلوں کے لوگ مل کر انہیں قتل کر دیں تا کہ ان کا خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہو جاۓ اور بنو ہاشم اس کا انتقام نہ لے سکیں (سیرۃ ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 95-93)۔ مکہ کے اس واقعہ کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے_ اور جب منکرین تمہاری نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا تم کو قتل کر دیں یا تم کو جلا وطن کر دیں ۔ وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیریں کر رہا تھا۔ اور اللہ بہترین تدبیر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page