غزوہ بدر اولیٰ
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے والا ہے (8:30) ۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل کر مدینہ آگئے ۔ تاہم اب یہ ظاہر ہو چکا تھا کہ قریش صرف عام مخالفت پر رکنے والے نہیں ہیں بلکہ وہ جنگ کر کے اسلام اور اہل اسلام کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہجرت کے بعد برابر آپ مہاجر صحابہ کے جاسوس دستے مکہ کے اطراف میں بھیجتے رہے تاکہ قریش جب جنگی اقدام کریں تو پیشگی طور پر ان کا اندازہ ہو جائے ۔ ہجرت کے بعد مہاجر صحابہ پر مشتمل جو سرايا بھیجے گئے وہ زیادہ تر قریش کی جارحانہ سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے تھے ۔ عشیرہ کی مہم بھی اسی قسم کی تھی جو جمادی الاولیٰ 2 ھ میں پیش آئی ۔ قریش کے بعد قافلہ کی خبر سن کر آپ 200 مہاجرین کو لے کر عشیرہ کی طرف گئے جو ینبع کے قریب ہے۔ مگر ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی ۔ آپ چند روز کے بعد مدینہ واپس آگئے ۔ اسی سفر میں آپ نے قبیلہ بنی مدلج سے وہ حلیفانہ معاہدہ کیا تھا جو تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے (سیرۃ ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ (177) ۔ عشیرہ سے آپ کی واپسی پر تقریباً دس دن گزرے تھے کہ قریش کی طرف سے براہ راست حملہ کا وہ واقعہ پیش آ گیا جس کا اندیشہ تھا ۔ قریش مکہ کے ایک سردار کرز بن جابر فہری نے ایک دستہ کے ساتھ مدینہ پر چھاپا مارا ۔ یہ لوگ رات کے وقت مدینہ کے علاقہ میں داخل ہوئے ۔ انہوں نے مدینہ کے مسلمانوں کی ایک چراگاہ پر شب خون مارا ۔ وہ مسلمانوں کے اونٹ اور بکریاں لے کر بھاگ گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قریش کی طرف سے اس واقعہ کی خبر معلوم ہوئی تو فوراً ہی آپ صحابہ کا ایک دستہ لے کر حملہ آوروں کے تعاقب میں نکلے ۔ اس تعاقب میں آپ صفوان کے مقام تک گئے جو بدر کے قریب واقع ہے ۔ مگر آپ کے اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی قریش کا حملہ آور دستہ آگے جا چکا تھا ۔ چنانچہ آپ صفوان سے واپس مدینہ چلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader