سیرتِ رسول
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
آئے۔ آپ نے صفوان سے آگے کی طرف سفر نہیں کیا۔ یہ قریش کی طرف سے پہلا براہ راست حملہ تھا جو بدر کے قریب پیش آیا۔ اسی لیے اس کو غزوہ بدر الاولیٰ کہا جاتا ہے۔ نیز مذکورہ سبب سے اس کو غزوہ صفوان بھی کہتے ہیں۔ اس غزوہ کے لیے جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا۔ کرز بن جابر قریش مکہ کے سرداروں میں سے تھے۔ بعد کو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اسلام کی صداقت ان پر واضح ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے مدینہ آ کر اسلام قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد انہوں نے بہت سی اسلامی خدمات انجام دیں۔ رسول اللہ نے بعد کو عرینہین کے تعاقب میں بیس سواروں کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔ اس دستہ کا امیر آپ نے کرز بن جابر کو مقرر کیا۔ فتح مکہ کی مہم میں وہ شریک تھے۔ اس مہم میں وہ شہید ہوئے۔ غزوہ بدر ثانیہ رمضان 2ھ میں پہلی باقاعدہ جنگ پیش آئی۔ اس کو غزوہ بدر کہا جاتا ہے۔ بدر ایک گاؤں کا نام تھا جو مدینہ سے تقریباً 80 میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ یہ جنگ اسی مقام پر ہوئی۔ اس لیے اس کو غزوہ بدر کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ اس مقام پر قریش کی جارحیت کا دوسرا واقعہ تھا، اس لیے اس کو غزوہ بدر ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس وقت اہل ایمان کی تعداد نسبتاً بہت کم تھی۔ سامان جنگ بھی کم تھا۔ مگر اللہ کی مدد سے دشمن کے مقابلہ میں ان کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ اسی لیے قرآن میں اس کو یوم الفرقان کہا گیا ہے، یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا دن۔ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو توحید اور آخرت کی دعوت دے رہے تھے۔ قریش، جو عرب کے سردار کی حیثیت رکھتے تھے، انہوں نے آپ پر اور آپ کے اصحاب پر ہر قسم کا ظلم کیا۔ حتیٰ کہ بعض مسلمانوں کو مارتے مارتے ہلاک کر ڈالا۔ مگر آپ ہر حال میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader