غزوہ بدر ثانیہ
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کرتے رہے۔ آپ قریش کی زیادتیوں سے یک طرفہ طور پر اعراض کرتے ہوئے پر امن انداز میں ان کو اپنا پیغام پہنچاتے رہے۔ جب قریش کا ظلم بہت بڑھ گیا تو آپ نے اپنے اصحاب کو مکہ چھوڑ کر مدینہ جانے کی اجازت دے دی۔ ایک ایک کر کے لوگ اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ جاتے رہے آخر میں قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ انتہائی اقدام کیا کہ آپ کو اپنے قبیلہ بنو ہاشم سے خارج کر دیا۔ اب بھی آپ مکہ میں مقیم رہے۔ اس کے بعد مکہ کی کونسل (دار الندوہ) میں تمام سردار جمع ہوئے۔ اور یہ طے کیا کہ آخری طور پر آپ کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اس کے مطابق ستمبر 622ء کی ایک رات کو مکہ کے سرداروں نے تلواروں سے مسلح ہو کر آپ کا مکان گھیر لیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ صبح سویرے جب حسب معمول آپ باہر نکلیں تو ایک بارگی آپ پر حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیا جائے۔ مگر آپ کو اللہ کی مدد حاصل ہوئی۔ رات کے اندھیرے میں آپ مکان سے نکل کر مکہ سے ہجرت کر گئے۔ اور 24 ستمبر 622ء کو حفاظت مدینہ پہنچ گئے۔ ان واقعات نے قریش کی جارحیت واضح طور پر ثابت کر دی تھی۔ اس لیے قرآن میں اصحاب رسول سے کہا گیا: کیا تم ان لوگوں سے لڑو گے جنہوں نے اپنے عہد توڑ ڈالے۔ اور انہوں نے رسول کو وطن سے نکال ڈالنے کا قصد کیا۔ اور وہی ہیں جنہوں نے تم سے لڑنے میں پہل کی۔ کیا تم ان سے ڈرو گے۔ اللہ زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا، اور ان کو رسوا کرے گا اور تم ان کو پر غلبہ دے گا اور مومنوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا۔ (14-9:13) رسول اور اصحاب رسول نے قریش کی جارحیت کی بنا پر اپنا وطن اور اپنا مال و اسباب مکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader