غزوہ بدر ثانیہ
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
میں چھوڑ دیا۔ اور تمام لوگ ہجرت کر کے مدینہ آگئے۔ مگر قریش نے اب بھی اپنی جارحیت نہ چھوڑی۔ وہ برابر مختلف انداز سے اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار کرتے رہے۔ اسی سلسلہ کا ایک واقعہ تھا جس کو اسلامی تاریخ میں غزوہ بدر اولیٰ کہا جاتا ہے۔ اب قریش نے ایک نیا جارحانہ منصوبہ بنایا۔ انہوں نے طے کیا کہ باقاعدہ تیاری کر کے مدینہ پر بھر پور حملہ کیا جائے۔ اور مسلمانوں کی طاقت کو بالکل توڑ دیا جائے ۔ اس مقصد کے لیے مکہ کے تمام قبیلوں اور خاندانوں نے مشترکہ مالی تعاون سے ایک رقم فراہم کی۔ اور پھر مکہ کے ایک تجربہ کار تاجر ابو سفیان بن حرب کی رہنمائی میں ایک تجارتی قافلہ شام بھیجا گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ وہاں سے سامان تجارت لایا جائے اور اس کو بیچ کر اس کے نفع سے جنگی تیاری کی جائے۔ رمضان 2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی کہ قریش کا مذکورہ تجارتی قافلہ شام سے واپس ہو کر مکہ جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ایک ہزار اونٹ ہیں جن پر تجارتی سامان لدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے جارحانہ منصوبہ کا نام بنانے کے لیے یہ ارادہ کیا کہ اس قافلہ کو درمیان میں پکڑیں اور اس سامان کو مکہ پہنچنے نہ دیں۔ آپ مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ قافلہ کی طرف روانہ ہوئے۔ سردار قافلہ ابو سفیان کو اندیشہ تھا کہ مسلمان اس قافلہ کو روکیں گے۔ چنانچہ وہ لوگ سر راہ گیر اور مسافر سے مدینہ کے حالات دریافت کرتے رہتے تھے۔ بعض مسافروں کے ذریعہ یہ خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ قافلہ کی طرف آرہے ہیں۔ اس کے بعد ابو سفیان نے ضمضم غفاری کو اجرت دے کر مکہ کی طرف بھیجا اور کہلایا کہ فورا مدد کے لیے پہنچو، ورنہ مسلمان ہمارے قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ ضمضم غفاری نے مکہ پہنچ کر اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور چیخ چیخ کر مکہ والوں کو بتایا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader