غزوہ بدر ثانیہ
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہارا قافلہ خطرہ میں ہے فوراَ دوڑو اور اس کی مدد کرو۔ اس خبر کے ملتے ہی تمام مکہ میں جوش وخروش پھیل گیا۔ اس لیے کہ مکہ کے تقریباً ہر مرد اور عورت نے اس تجارتی قافلہ میں اپنا سرمایا لگا رکھا تھا۔ فوراَ مکہ کے ایک ہزار آدمی پورے فوجی سامان کے ساتھ تیار ہو گئے اور ابوجہل کی سرداری میں روانہ ہو گئے۔ اس فوج میں ابولہب کو چھوڑ کر مکہ کے تمام سردار اور قابلِ جنگ افراد شریک تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 12 رمضان کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ کے ساتھ 313 صحابی تھے۔ سامان بھی بہت کم تھا۔ صرف 2 گھوڑے تھے اور 70 اونٹ تھے۔ ایک اونٹ پر 2 یا 3 آدمی باری باری سوار ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری میں علی بن ابی طالب اور ابولبابہ شریک تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدل چلنے کی باری آئی تو دونوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول آپ اونٹ پر سوار ہو جائیں، ہم آپ کے بجائے پیدل چلیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقت ور نہیں ہو ۔ اور نہ میں تم دونوں کے مقابلے میں اجر سے بے نیاز ہوں: مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي، وَلَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمْا (السيرة النبوية لابن كثير، جلد 2، صفحہ 389) ۔ حالات کی خبر گیری کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آدمی آگے روانہ کر رکھے تھے۔ آپ صفراء کے مقام پر پہنچے تو بُسْبُس اور عدی نے آکر آپ کو اطلاع دی کہ قریش کی فوج آپ کی طرف چلی آ رہی ہے۔ مزید معلوم ہوا کہ مکہ کا تجارتی قافلہ راستہ بدل کر تیزی سے سفر کرتے ہوئے نکل گیا ہے اور مکہ کے حدود میں داخل ہو گیا ہے۔ ابو جہل کی قیادت میں اہل مکہ کا جو لشکر روانہ ہوا تھا وہ اپنے تجارتی قافلہ کی طرف سے مطمئن ہو کر مدینہ کی طرف بڑھ رہا تھا کہ مدینہ پر حملہ کرکے اس کا خاتمہ کر دے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الہی کی رہنمائی میں یہ طے کیا کہ وہ بھی ابو جہل کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader