Urdu book · سیرتِ رسول

ابتدائی حالات

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دادا عبدالمطلب بن ہاشم کے ساتھ رہنے لگے۔ عبدالمطلب مکہ کے با عزت لوگوں میں سے تھے۔ ان کے لیے کعبہ کے پاس فرش بچھایا جاتا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں آتے تو وہ بھی اس فرش پر بیٹھ جاتے۔ اگر کوئی آپ کو ہٹاتا تو عبدالمطلب کہتے کہ میرے بچہ کو چھوڑ دو، خدا کی قسم وہ بہت شان والا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب آٹھ سال کے ہوئے تو آپ کے دادا عبدالمطلب کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہ واقعہ عام الفیل کے آٹھ سال بعد پیش آیا۔ عبدالمطلب کے انتقال کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ رہنا شروع کیا۔ ابو طالب ایک تاجر تھے۔ وہ اپنی تجارت کے سلسلہ میں شام کی طرف جانے لگے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ساتھ جانے کا شوق ظاہر کیا۔ اگر چہ اس وقت آپ کم عمر تھے مگر ابو طالب نے شفقت کی بنا پر ان کو اپنے ساتھ لے لیا۔ ان کا تجارتی قافلہ شام کے شہر بصرئ میں اترا۔ یہاں کے کلیسا میں ایک مسیحی راہب رہتا تھا جس کا نام بُحییرہ تھا۔ بحیرہ نے قدیم مذہبی کتابوں کو پڑھا تھا کہ عرب سے ایک پیغمبر ظاہر ہوں گے ۔ اس نے جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو بعض علامتوں سے اس نے پہچان لیا کہ یہی بچہ وہ شخص ہے جس کو خدا کی طرف سے آخری پیغمبر بنایا جانے والا ہے۔ چنانچہ اس نے آپ کی اور پورے قافلہ کی دعوت کی۔ بحیرہ نے ابو طالب سے پوچھا کہ اس لڑکے کا تم سے کیا رشتہ انہوں نے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ بحیرہ نے کہا کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ اس لڑکے کا باپ زندہ نہ ہونا چاہیے ۔ جب ابو طالب نے بتایا کہ آپ کے باپ کا انتقال ہو چکا ہے تو بحیرہ نے کہا کہ تم اپنے بھتیجے کو لے کر اپنے وطن واپس جاؤ اور یہود سے ان کی حفاظت کرو۔ خدا کی قسم ، اگر انہوں نے اس کو پہچان لیا تو وہ ضرور اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page