Urdu book · سیرتِ رسول

غزوہ بدر ثانیہ

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

فوج کی طرف بڑھیں اور اللہ کی مدد کے بھروسہ پر اس کا مقابلہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جاننے کی فکر تھی کہ ابو جہل کے ساتھ کتنے آدمی ہیں۔ آپ نے کچھ اصحاب کو خبر گیری کے لیے روانہ فرمایا۔ ان کو قریش کے دو غلام مل گئے۔ وہ انہیں پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ قریش کے لوگ کتنی تعداد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہیں۔ آپ نے سوال بدل کر پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ وہ روزانہ اپنے کھانے کے لیے کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ دس اونٹ۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ تقریباً ایک ہزار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو 313 (یا 315) آدمی تھے ان میں کچھ مہاجرین تھے اور کچھ انصار۔ مہاجرین اپنی بیعت کے مطابق، ہر حال میں آپ کی مدد کرنے کے پابند تھے مگر انصار نے جو بیعت کی تھی وہ بیعت النسائتھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہو تو وہ آپ کے ساتھ حملہ آور سے لڑیں گے۔ لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ کرنا پڑے تو از روئے بیعت وہ آپ کے ساتھ لڑنے کے پابند نہ تھے۔ اس نزاکت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ اب ہمارا مقابلہ قریش کی فوجی طاقت سے ہے اس لیے تم لوگ اس معاملہ میں مجھ کو مشورہ دو: أَشِيرُوا عَلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ (سیرۃ ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 188)۔ اس کے بعد ابو بکر اور عمر نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔ مقداد بن اسود نے کھڑے ہو کر کہا کہ اے خدا کے رسول، اللہ نے آپ کو جس چیز کا حکم دیا ہے اس کو کر گزریے۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم، ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ اے موسیٰ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ آپ چلیں اور آپ کا رب بھی۔ ہم آپ کے ساتھ لڑنے کے لیے حاضر ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page