Urdu book · سیرتِ رسول

غزوہ بدر ثانیہ

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

مہاجرین ایک کے بعد ایک اسی طرح پر جوش تعاون کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ اپنے کلمہ کو دہراتے رہے کہ اے لوگو، مجھ کو مشورہ دو۔ اس کے بعد انصار کے سردار سعد بن معاذ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے بعد سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا: اے خدا کے رسول، ہم آپ کے اوپر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی اور یہ گواہی دی کہ آپ جو دین لائے ہیں وہ حق ہے۔ اور اس پر ہم آپ کے ساتھ سمع اور طاعت کا عہد کر چکے ہیں۔ اے خدا کے رسول، آپ مدینہ سے ایک چیز کے لیے نکلے تھے اور اللہ نے اس کے سواد دوسری صورت آپ کے لیے پیدا فرما دی۔ پس آپ جو چاہتے ہیں اس کے لیے قدم بڑھائیے۔ آپ جس سے چاہیں تعلق جوڑیں اور جس سے چاہیں تعلق توڑ دیں۔ جس سے چاہیں صلح کریں اور جس سے چاہیں دشمنی کریں۔ ہمارے مال میں سے جو آپ چاہیں لے لیں اور جو چاہیں ہم کو دے دیں۔ اور مال کا جو حصہ آپ لے لیں گے وہ ہم کو اس حصہ سے زیادہ محبوب ہوگا جو آپ ہم کو دیں گے۔ پس حکم دیجئے، ہم آپ کے تابع ہیں۔ اگر آپ چلیں یہاں تک کہ آپ برک غمار تک پہنچ جائیں تو ہم بھی ضرور آپ کے ساتھ جائیں گے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اگر آپ ہم کو اس سمندر میں داخل ہونے کے لیے کہیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے، اور ہم میں سے کوئی شخص پیچھے نہ رہے گا۔ دشمن کا سامنا کرنا ہمارے لیے کوئی ناپسندیدہ بات نہیں۔ ہم جنگ کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہیں اور مقابلہ کے وقت سچے ہیں۔ اور شاید اللہ ہم سے آپ کو وہ چیز دکھائے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ پس اللہ کے بھروسہ پر ہم کو لے کر چلیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جواب کو سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ اللہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page