غزوہ بدر ثانیہ
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
بھروسہ پر چلو۔ اور تم کو خوش خبری ہو۔ اللہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ضرور ہم کو فتح عطا کرے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو کر اس سمت میں چلے جدھر سے مکہ والوں کا لشکر مدینہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بدر کے قریب پہنچ کر آپ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر فریق ثانی بڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچ جائے تو ہم جنگ کے لیے تیار ہیں اور اگر وہ لوگ یہاں تک آنے سے پہلے لوٹ جائیں تو ہم بھی مدینہ کی طرف واپس چلے جائیں گے۔ اس وقت ایک صحابی حباب بن منذر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان کو اس طرح کے معاملات کا تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ جگہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالا ہے یہ وحی کی بنیاد پر ہے یا ذاتی رائے اور تدبیر کی بنیاد پر۔ آپ نے فرمایا کہ ذاتی رائے کی بنیاد پر۔ صحابی نے کہا کہ اے خدا کے رسول، پھر تو یہ کوئی مناسب جگہ نہیں۔ اس کے بعد مذکورہ صحابی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جنگی تدبیر کے لحاظ سے یہ جگہ غیر موزوں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وضاحت کو قبول فرمایا اور کچھ آگے بڑھ کر دوسری جگہ پر پڑاؤ ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ اس طرح کی مہم میں آپ فریق ثانی کی خبر معلوم کرنے کی کوشش کرتے تا کہ پیشگی طور پر ان کے بارے میں ساری معلومات ہو جائیں۔ چنانچہ اس موقع پر بھی آپ نے بعض صحابہ کو خبر لینے کے لیے بھیجا۔ وہ قریش کے دو آدمیوں کو پکڑ لائے جو انہیں ایک چشمہ پر مل گئے تھے۔ ان کا کام مشک میں پانی بھر کر لانا تھا۔ وہ دونوں رسول اللہ کے پاس لائے گئے تو آپ نے پوچھا کہ قریش کے لوگ جو مکہ سے نکلے ہیں ان کی تعداد کیا ہے۔ انہوں نے بتانے سے انکار کیا۔ رسول اللہ نے سوال بدل کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader