Urdu book · سیرتِ رسول

غزوہ بدر ثانیہ

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

پوچھا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ وہ لوگ کھانے کے لیے روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ کسی دن نو اور کسی دن دس۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ ان کی تعداد نو سو اور ہزار کے درمیان ہے۔ اس کے بعد قریش کا لشکر، جو تقریباً ایک ہزار تھا، بڑھتے ہوئے بدر کے مقام پر پہنچ گیا۔ یہیں دونوں گروہوں کے درمیان وہ جنگ ہوئی جس کو غزوہ بدر کہا جاتا ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عریش (چھپر) میں تھے۔ جنگ سے پہلے آپ نے نہایت گریہ وزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اس موقع پر آپ کی زبان سے جو دعائیہ کلمات نکلے ان میں سے ایک یہ تھا: اے اللہ، یہ قریش ہیں جو گھمنڈ اور فخر کے ساتھ آئے ہیں: اَللّٰهُمَّ هٰذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ بِخُيَلَائِهَا وَفَخْرِهَا (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ (621) تو ان کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ اس وقت ایک فرشتہ آپ کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے محمد اللہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ سلامتی ہے اور اس سے سلامتی ہے اور اسی کی طرف سلامتی ہے: هُوَ السَّّلَامُ، وَمِنْهُ السَّلَامُ، وَإِلَيْهِ السَّلَامُ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد 2، صفحہ 403)۔ ابو جہل کی سرداری میں مکہ سے مشرکین کا جو لشکر آیا تھا اس کی تعداد ایک ہزار تھی۔ اس میں بہت سے لوگ ایسے تھے جو رسول اللہ سے لڑنا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے ابو جہل کو جنگ سے منع کیا اور واپسی کے لیے کہا۔ لیکن ابو جہل جنگ پر اڑا رہا۔ چنانچہ دونوں فریقوں کے درمیان بدر کے میدان میں مسلح مقابلہ ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد اگرچہ صرف 313 تھی۔ لیکن اللہ کی خصوصی مدد سے یہ لوگ کامیاب ہوئے۔ اس جنگ میں مسلمانوں میں سے چودہ آدمی شہید ہوئے۔ دوسری طرف مشرکین میں سے 70 آدمی مارے گئے اور ستر گرفتار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page