Urdu book · سیرتِ رسول

غزوہ بدر ثانیہ

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے۔ ان میں زیادہ تعداد مکہ کے سرداروں کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے بعد تین دن بدر میں ٹھہرے ۔ اس کے بعد وہاں سے روانہ ہو کر مدینہ واپس آئے، واپس آنے والوں میں وہ 70 مشرکین بھی تھے جو بدر کی جنگ میں گرفتار ہوئے تھے۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو قدیم زمانہ کے لحاظ سے پڑھے لکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ان میں سے جو شخص مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھادے اس کور ہا کر دیا جائے گا۔ چنانچہ کئی لوگوں نے اس طرح تعلیمی خدمت کے ذریعہ قید سے رہائی حاصل کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب (سیکرٹری) حضرت زید بن ثابت انصاری پہلے لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے انہی بدری قیدیوں سے لکھنا اور پڑھنا سیکھا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب خاص بن گئے اور یہی تھے جنہوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں قرآن کا مکمل نسخہ لکھ کر تیار کیا اور پھر یہی تھے جنہوں نے حضرت عثمان کے زمانہ میں قرآن کے مزید کتابت شدہ نسخے تیار کیے ۔ اس زمانہ میں مدینہ میں قیدیوں کورکھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انتظام اس طرح کیا کہ ان قیدیوں کو مختلف مسلمانوں کے حوالہ کر دیا اور کہا کہ ان کو اپنے گھروں میں رکھو۔ اس سلسلہ میں آپ نے حکم بھی فرمایا کہ ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو: اسْتَوْصُوا بِالْأَسَارَى خَيْرًا (المجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 977) چنانچہ صحابہ کا یہ حال ہوا کہ جن کے پاس قیدی تھے وہ پہلے قیدیوں کو کھانا کھلاتے اور بعد میں خود کھاتے اور اگر نہ بچتا تو خود کھجور پر اکتفا کرتے ۔ اس حسن سلوک کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان میں سے بیشتر قیدی بعد کو اسلام میں داخل ہوگئے۔ بدر کے قیدیوں میں کچھ لوگوں نے مدینہ کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا کر رہائی حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page