Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

کی۔ کچھ نادار لوگ صرف اس وعدہ پر رہا کر دیے گئے کہ آئندہ وہ مسلمانوں کے مقابلہ پر نہیں آئیں گے۔ کچھ لوگوں کے رشتہ دار مکہ سے آئے اور فدیہ کی رقم ادا کر کے اپنے قیدی کو واپس لے گئے، وغیرہ۔ انہی قیدیوں میں ایک سہیل بن عمرو بھی تھے۔ وہ اعلیٰ درجہ کے شاعر اور خطیب تھے۔ وہ اجتماعات میں رسول اللہ کی مذمت کیا کرتے تھے اور آپ پر سب وشتم کرتے ہوئے اشعار پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھ کو اجازت دیجئے کہ میں سہیل کے نیچے کے دو دانت اکھاڑ دوں تاکہ اس کی آواز خراب ہو جائے اور وہ آپ کے خلاف بولنے کے قابل نہ رہے۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر، سہیل کو چھوڑ دو عجب نہیں کہ خدا تم کو ان سے کوئی خوشی دکھائے۔ چنانچہ صلح حدیبیہ انہی کی کوششوں سے ہوئی، جو اسلام کے لیے فتح مبین بن گئی۔ بعد کو فتح مکہ کے وقت وہ خود بھی اسلام میں داخل ہو گئے۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تو آپ نے فرمایا کہ اے عمر، میں اس طرح کسی کا مثلہ نہیں کرتا اور نہ مجھے اندیشہ ہے کہ خدا میرا مثلہ کر دے گا۔ اگر چہ میں خدا کا رسول ہوں: لَا أُمَثِّلُ بِهِ فَيُمَثِّلُ اللَّهُ بِي وَإِنْ كُنْتُ نَبِيًّا (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 649)۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد جب عرب قبائل میں بغاوت (ارتداد) پھیل گئی تو اس وقت سہیل بن عمرو کی خطابت نے بہت کام کیا۔ انہوں نے قبائل میں زبردست تقریریں کیں اور ان کی بغاوت کو ٹھنڈا کیا۔ غزوہ قرقرۃ الکدر شوال 2ھ غزوہ بدر سے واپس آنے کے بعد آپ کو یہ خبر ملی کہ سلیم اور غطفان آپ کے خلاف مجتمع ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ دوسو آدمیوں کو لے کر ان کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ چلتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page