Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے اس مقام پر پہنچے جس کو چشمہ کدر کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں کا مقصد کھلی لڑائی نہ تھا بلکہ چھاپہ مارنا تھا۔ چنانچہ جب ان کو معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام ان کے اقدام سے باخبر ہو چکے ہیں اور اپنے آدمیوں کے ساتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہیں تو وہ واپس لوٹ گئے۔ آپ نے چشمہ کدر پر تین روز قیام فرمایا اور اس کے بعد بلا مقابلہ مدینہ لوٹ آئے۔ غزوہ بنی قینقاع شوال 2ھ قبیلہ بنی قینقاع یہودی عالم عبداللہ بن سلام کی برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کی شجاعت و بہادری مشہور تھی۔ اکثر لوگ زرگری کا کام کرتے تھے۔ پیغمبر اسلام ان کے بازار میں گئے اور ان کو جمع کر کے انہیں اسلام کا پیغام دیا۔ آپ نے کہا کہ اے گروہ یہود، تم لوگ اللہ سے ڈرو۔ بدر میں جس طرح قریش خدا کی پکڑ میں آگئے، ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی طرح خدا کی پکڑ میں آجاؤ۔ اسلام کو مان لو، یقیناً تم جانتے ہو کہ میں خدا کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔ تم اس کو اپنی کتاب میں پاتے ہو اور اللہ نے تم سے اس کا عہد لیا ہے۔ یہود اس تقریر کو سن کر بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے آپ کا مقابلہ ایک ناواقف اور نا تجربہ کار قوم (قریش) سے تھا، جس میں آپ غالب ہو گئے۔ بخدا اگر ہم سے مقابلہ ہو تو آپ جان لیں گے کہ ہم مرد ہیں۔ پیغمبر اسلام جب مکہ کو چھوڑ کر مدینہ آئے تھے تو وہاں کے یہودی قبائل بنی قینقاع اور بنی قریظہ اور بنی نضیر سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہم نہ آپ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ کے دشمن کو کسی قسم کی مدد دیں گے۔ قینقاع نے عہد شکنی کی اور آپ سے جنگ پر آمادہ ہو گئے۔ یہ یہودی قبیلے مدینہ کے اطراف میں رہتے تھے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام نے مدینہ میں اپنی جگہ ابولبابہ بن عبد المنذر انصاری کو مقرر کیا۔ اور بنی قینقاع کی بستی کی طرف روانہ ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page