Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

یہود نے قلعہ میں داخل ہو کر اس کا دروازہ بند کر لیا۔ پیغمبر اسلام نے پندرہ شوال سے یکم ذی قعدہ تک ان کا محاصرہ کیا۔ آخر کار وہ لوگ دو ہفتہ بعد قلعہ سے اترے ۔ آپ نے ان کو قتل نہیں کیا البتہ حکم دیا کہ ضروری سامان لے کر وہاں سے چلے جائیں۔ غزوہ سویق ذوالحجہ 2ھ غزوہ بدر کی شکست کے بعد جب ان کے بچے ہوئے لوگ مکہ پہنچے تو مکہ میں اس شکست کا خوب چرچا ہوا۔ ابو سفیان جو مکہ کے سردار تھے اور ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ انہوں نے قسم کھائی کہ میں جب تک مسلمانوں پر حملہ کر کے اس وقت تک غسل نہیں کروں گا۔ چنانچہ وہ اور دو سو سوار جارحانہ ارادہ کے تحت مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ لوگ مقام عریض تک پہنچے جو کہ مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے ۔ یہاں وہ لوگ ایک کھجور کے باغ میں گھسے ۔ وہاں دو شخص زراعت کے کام میں مصروف تھے۔ ایک شخص انصار میں سے تھا اور دوسرا مزدور تھا۔ انہوں نے ان دونوں کو قتل کر دیا اور کچھ درخت جلا دیے اور سمجھے کہ ہماری قسم پوری ہوگئی ، اور پھر واپس چلے گئے۔ پیغمبر اسلام کو جب معلوم ہوا تو آپ دو سو مسلمانوں کے ساتھ ابو سفیان کے تعاقب میں روانہ ہوئے مگر وہ لوگ آپ کے پہنچنے سے پہلے جا چکے تھے ۔ چلتے وقت وہ لوگ اپنے ستو کے کچھ تھیلے وہاں چھوڑ گئے وہ سب مسلمانوں کو مل گئے۔ اسی لیے اس غزوہ کا نام غزوہ السویق یعنی ستو والا غزوہ پڑ گیا۔ 9 ذوالحجہ کو پیغمبر اسلام غزوہ السویق سے مدینہ واپس آئے اور 10 ذوالحجہ کو عید الاضحیٰ کی دو رکعت نماز مسلمانوں کے ساتھ ادا کی۔ اور دو مینڈھے قربانی کیے اور مسلمانوں کو قربانی کا حکم دیا۔ یہ اسلام میں پہلی عید الاضحیٰ تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page