Urdu book · سیرتِ رسول

نکاح سیدہ فاطمہ

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

نکاح سیدہ فاطمہ ھ 2 2ھ میں پیغمبر اسلام نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ کا نکاح علی بن ابی طالب سے کیا۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب میں نے نکاح کا پیام دینے کا ارادہ کیا تو دل میں یہ خیال آیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں حالانکہ شادی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہونا چاہیے۔ جب میں نے اپنی درخواست آپ کی خدمت میں پیش کی تو آپ نے فرمایا تمہارے پاس مہر میں دینے کے لیے کوئی چیز ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ زرہ جو تم کو جنگ بدر میں ملی تھی وہ کہاں ہے۔ میں نے عرض کیا وہ تو موجود ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہی زرہ فاطمہ کو مہر میں دے دو۔ حضرت علی نے اس زرہ کو حضرت عثمان کے ہاتھ 480 درہم میں فروخت کر دیا اور یہ رقم لا کر رسول اللہ کے سامنے پیش کر دی ۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ اس میں سے خوشبو اور کپڑے کا انتظام کر لو۔ رسول اللہ نے صاحب زادی کو جہیز میں جو سامان دیا وہ یہ تھا : ایک سادہ لحاف، چمڑے کا معمولی گدا جس میں درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، چکی، پانی کی مشک، اور دو مٹی کے گھڑے ۔ غزوة غطفان محرم 3ھ محرم 3ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر ملی کہ بنی ثعلبہ اور بنی محارب نجد میں جمع ہو رہے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ اطراف مدینہ میں چھاپہ ماریں اور سامان لوٹیں۔ دعثور غطفانی ان کا سردار تھا۔ یہ خبر سن کر آپ نے صحابہ کی ایک جمعیت کے ساتھ غطفان کی طرف کوچ کیا اور مدینہ میں عثمان بن عفان کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ اس وقت آپ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page