سیرتِ رسول
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمراہ چار سو پچاس صحابہ تھے۔ قبیلہ غطفان کے یہ لوگ آپ کے آنے کی خبر سن کر منتشر ہو کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ صرف ایک شخص ہاتھ آیا۔ صحابہ نے پکڑ کر اس کو آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے اس کو نصیحت کی اور اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ صفر کا پورا مہینہ آپ نے اسی علاقہ میں گزارا۔ لیکن کوئی شخص مقابلہ پر نہ آیا۔ آپ پر امن طور پر مدینہ واپس آ گئے۔ اس سفر سے واپسی میں آپ ایک موقع پر ایک درخت کے نیچے تنہا لیٹ کر آرام فرما رہے تھے۔ اس وقت مشرکین میں سے ایک ادھر سے گزرا۔ وہ آپ کو اکیلا دیکھ کر آپ کے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تلوار تھی۔ اس نے کہا کہ اے محمد، تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ۔ اس کے بعد اس نے تلوار رکھ دی اور آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ اب بتاؤ کہ تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔ اس نے کہا کہ آپ بہتر تلوار لینے والے ہیں (کنت خیر آخذ) آپ نے اس سے یہ وعدہ لے کر چھوڑ دیا کہ وہ آئندہ کبھی آپ کے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔ غزوة نجران ربیع الثانی 3 ھ ربیع الثانی 3 میں مدینہ میں آپ کو یہ خبر ملی کہ نجران نامی مقام پر بنی سلیم مسلمانوں کے خلاف کارروائی کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ خبر پانے کے بعد آپ تین سو صحابہ کے ساتھ نجران کی طرف روانہ ہوئے۔ اور مدینہ میں عبداللہ بن ام مکتوم کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ ان لوگوں نے جب آپ کے آنے کی خبر سنی تو اپنا ارادہ ترک کر کے منتشر ہو گئے۔ آپ نے تقریباً بیس دن نجران کے علاقہ میں قیام فرمایا اور اس کے بعد مدینہ واپس آگئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader