Urdu book · سیرتِ رسول

ابتدائی حالات

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جوانی کے مرحلہ میں اس طرح داخل ہوئے کہ اللہ آپ کی نگرانی کر رہا تھا تا کہ جاہلیت کی کوئی گندگی آپ کو نہ لگ سکے۔ آپ سن بلوغ کو پہنچے تو آپ کا حال یہ تھا کہ مکہ کے لوگوں میں آپ سب سے بہتر اخلاق والے اور سب سے زیادہ شریف اور سنجیدہ انسان کی حیثیت سے مشہور ہو چکے تھے۔ آپ سے کبھی کسی کو بد کلامی یا وعدہ خلاف کا تجربہ نہیں ہوا۔ حتی کہ آپ کے جاننے والے آپ کو امین کہنے لگے۔ آپ جس زمانہ میں مکہ میں تھے، ایک قبائلی جھگڑے کی بنا پر قریش اور بنو قیس کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔ اس لڑائی کو حرب فجار کہا جاتا ہے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 15 سال تھی۔ جب آپ 25 سال کے ہوئے تو قریش کی ایک بیوہ خاتون ، خدیجہ بنت خویلد کی طرف سے آپ کو نکاح کا پیغام ملا۔ خدیجہ کی عمر اس وقت 40 سال ہو چکی تھی۔ وہ مکہ کی ایک شریف اور مالدار خاتون شمار ہوتی تھیں۔ وہ ایک تجارتی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور خود بھی لوگوں کے ذریعہ تجارت کرتی تھیں اور نفع کا ایک حصہ انہیں دے دیتی تھیں۔ ابتدا میں جب ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور امانت داری کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ آپ میرا مال لے کر میرے غلام میسرہ کے ساتھ شام جائیں۔ میں آپ کو اس سے زیادہ معاوضہ دوں گی جتنا کہ میں دوسروں کو دیتی ہوں۔ آپ سامان فروخت کر کے دوبارہ مکہ واپس آئے اور اس کی رقم خدیجہ کو دی تو وہ بہت خوش ہوئیں کیوں کہ انہیں اس سے دگنا فائدہ حاصل ہوا تھا۔ ان تجربوں کے بعد خدیجہ پر آپ کے اخلاق اور آپ کی شخصیت کا بہت زیادہ اثر پڑا۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ آپ نے اپنے چچا سے مشورہ کے بعد اس پیغام کو قبول کر لیا۔ خدیجہ پہلی خاتون تھیں جن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا۔ ان کی زندگی میں آپ نے کوئی دوسرا نکاح نہ کیا یہاں تک کہ وہ انتقال کر گئیں۔ آپ کے فرزند

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page