Urdu book · سیرتِ رسول

غزؤۂ احد

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

غزوہ احد شوال ۳ھ مکہ سے ہجرت کرنے کے بعد مکہ والوں کے اقدامات کی بنا پر بار بار ان سے جھڑپیں ہوتی رہیں۔ ان میں سے پہلا بڑا واقعہ بدر کا غزوہ تھا۔ اس میں اہل مکہ کو زبردست شکست ہوئی ۔ اس شکست کے بعد وہ خاموش نہیں ہوئے۔ ان کے انتقام کا جذبہ بھڑکتا رہا یہاں تک کہ وہ جنگ پیش آئی جس کو غزوہ احد کہا جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر قریش کی اس فوج سے مڈبھیڑ ہوئی تھی جو ابو جہل کی سرداری میں مکہ سے نکل کر آئی تھی۔ قریش کا دوسرا گروہ وہ تھا جس کی حیثیت تجارتی قافلہ کی تھی۔ یہ قافلہ سفیان کی سرداری میں شام سے آ رہا تھا، وہ محفوظ طور پر مکہ پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس تجارتی سفر میں اہل مکہ نے مشترک طور پر پچاس ہزار کا سرمایہ لگایا تھا۔ اس سے تقریباً دگنا فائدہ حاصل ہوا تھا۔ اب مکہ کے سردار ابو سفیان بن حرب، عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ دار الندوہ (مکہ کے چو پال) میں اکٹھا ہوئے۔ مشورہ کے بعد یہ طے پایا کہ اس تجارت کی اصل رقم لوگوں کو لوٹادی جائے اور اس کا جو نفع ہے اس کو مدینہ کے خلاف فوجی کارروائی میں استعمال کیا جائے ۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ تیاری کی گئی یہاں تک کہ پورے ساز وسامان کے ساتھ تین ہزار کا لشکر 5 شوال 3ھ کو مکہ سے مدینہ کے لیے ابوسفیان کی سرداری میں روانہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض ذرائع سے قریش کے اس فوجی اقدام کی خبر ہوگئی۔ چنانچہ آپ نے مزید حالات معلوم کرنے کے لیے مدینہ سے دو آدمی روانہ کیے جن کا نام انس اور مونس تھا۔ ان دونوں نے واپس آکر یہ خبر دی کہ قریش کا لشکر مدینہ کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اسکے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page