Urdu book · سیرتِ رسول

غزؤۂ احد

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد آپ نے حباب بن منذر کو بھیجا تا کہ وہ لشکر کی تعداد کا اندازہ کریں۔ انہوں نے واپس آ کر تعداد وغیرہ کے بارے میں پوری اطلاع دی۔ اس کے بعد آپ نے دفاع کی تیاریاں شروع کر دیں اور صحابہ کو جمع کر کے مشورہ کیا۔ بزرگ صحابہ کی رائے یہ تھی کہ شہر میں رہ کر ان کا مقابلہ کیا جائے ۔ لیکن نوجوان مسلمانوں کی رائے تھی کہ شہر سے نکل کر باہر مقابلہ کرنا چاہیے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں قلعہ بند ہو کر دفاع کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی کی رائے بھی یہی تھی۔ عبداللہ بن ابی نے کہا کہ شہر مدینہ ایک قلعہ کی مانند ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی مدینہ والوں نے مدینہ میں رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا تو وہ کامیاب رہے، اور جب وہ مدینہ سے باہر نکلے تو کامیاب نہ ہو سکے۔ کچھ لوگوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اگر ہم نے مدینہ میں رہ کر ان کی مدافعت کی تو ہمارے دشمن ہم کو بز دل قرار دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ ایک ہزار افراد تھے مگر مذکورہ اختلاف کی بنا پر عبداللہ بن ابی کی سرداری میں تین سو آدمی درمیان سے جدا ہو کر واپس چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بات نہیں مانی گئی اس لیے ہم اس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات سو افراد باقی رہ گئے۔ احد کی جنگ دوپہر بعد شروع ہوئی اور شام تک ختم ہو گئی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی طرف آخر میں سات سو آدمی رہ گئے تھے۔ دوسری طرف اہل مکہ کا لشکر تقریباً تین ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ ان کے لشکر کے ساتھ مکہ کی عورتیں بھی آئی تھیں جو ججز یہ اشعار پڑھ کر اپنے لشکر یوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابارتی تھیں۔ ان عورتوں میں سے کچھ کے نام یہ ہیں: ہندہ بنت عتبہ، ام حکم بنت حارث، فاطمہ بن ولید، برزہ بنت مسعود، ربطہ بنت شیبہ، سلافہ بنت سعد، خناس بن مالک۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page