غزؤۂ احد
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
ان میں سے دو عورتیں خناس اور عمرہ دین شرک پر باقی رہیں۔ بقیہ عورتوں نے بعد کو اسلام قبول کر لیا۔ مشرکین مکہ نے پانچ آدمیوں کو اپنے لشکر کا سردار بنایا تھا۔ ان کے نام یہ ہیں: خالد بن ولید، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ، عمر بن العاص، عبد اللہ بن ابی ربیعہ۔ احد کے موقع پر یہ لوگ نہایت بے جگری کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ مگر بعد کو ان کی سوچ میں تبدیلی ہوئی اور ان پانچوں نے اسلام قبول کر لیا۔ جنگ شروع ہوئی تو مسلمان اپنی قلت کے باوجود غالب رہے۔ انہوں نے مخالف لشکر کے بہت سے لوگوں کو قتل کیا۔ تاہم اس وقت بھی وہ اسلام کے اصولوں پر قائم رہے۔ مثلاً ابو دجانہ صحابی تلوار لے کر مخالف لشکر میں گھسے اور انہیں مارنا شروع کیا۔ اسی دوران ایک عورت (ہندہ) ان کے سامنے آ گئی۔ مگر جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک عورت ہے، اس کے ہاتھ میں کوئی تلوار نہیں ہے۔ وہ صرف رجزیہ اشعار پڑھ رہی ہے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے اپنی اٹھی ہوئی تلوار روک لی۔ کیوں کہ میدان جنگ میں عورتوں کو یا غیر مقاتلین کو مارنا اسلام میں جائز نہیں۔ احد کی جنگ میں ابتداء مسلمانوں کی جیت ہوئی تھی۔ مگر پھر جیت شکست میں تبدیل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میدان کے کنارے احد پہاڑ میں ایک درہ تھا جو انتہائی جنگی اہمیت کا حامل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں مسلمانوں کا ایک دستہ مقرر فرمایا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ تم ہر حال میں یہاں قائم رہنا۔ کسی بھی صورت میں تم یہاں سے نہ ہٹنا۔ مگر ان لوگوں نے دیکھا کہ جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہو گئی تو وہ درہ کو چھوڑ کر باہر آ گئے۔ خالد جو اس وقت مشرکین کے سردار تھے، انہوں نے اس غلطی سے فائدہ اٹھایا اور درہ میں داخل ہو کر پشت کی طرف سے مسلمانوں کے اوپر حملہ کر دیا۔ یہ غیر متوقع حملہ مسلمانوں کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader