غزؤۂ احد
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت ہی سخت ثابت ہوا یہاں تک کہ فتح دوبارہ شکست میں تبدیل ہوگئی۔ اس جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہ بن عبد المطلب بھی شہید ہوگئے۔ ان کو مارنے والا ملکہ کا ایک غلام تھا جس کا نام وحشی بن حرب تھا۔ اس کو مسلمانوں سے کوئی عناد نہ تھا۔ صرف اپنے آقا کے کہنے پر آزاد ہونے کے لیے اس نے ایسا کیا تھا۔ بعد کو اسے شرمندگی ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس وقت ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ وہی شخص ہے جس نے آپ کے چچا حمزہ کو قتل کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو ایک شخص کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک ہزار کافر کو قتل کرنے سے زیادہ محبوب ہے: دَعُوْهُ فَإِنَّ سَلَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ قَتْلِ أَلْفِ رَجُلٍ كَافِرٍ (الروض الأنف، جلد 5، صفحہ 317)۔ اس جنگ میں جب مخالفین کے لشکر نے پشت کی طرف سے حملہ کیا تو مسلمانوں کی پاؤں اکھڑ گئے۔ یہاں تک کہ صرف تھوڑے سے لوگ رسول اللہ کے پاس آپ کی حفاظت کے لیے باقی رہے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر مخالفین نے آپ کی طرف ہجوم کیا۔ اس وقت آپ نے بآواز بلند فرمایا کہ کون شخص ہے جو ہمارے لیے اپنی جان کو فروخت کرے اور جنت میں ہمارے ساتھ رہے۔ اس وقت صحابہ کی بڑی تعداد آپ کی طرف دوڑ پڑی اور آپ کو گھیرے میں لے لیا۔ اس طرح مخالفین کو آپ کے اوپر تلوار سے حملہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ البتہ انہوں نے آپ کی طرف کئی پتھر پھینکے جس کی وجہ سے آپ کا چہرہ شدید طور پر زخمی ہو گیا اور خون بہنے لگا۔ اس وقت آپ کی زبان سے نکلا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو لہولہان کرے حالانکہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہے۔ آپ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا تو اسی وقت خدا کی طرف سے فرشتہ یہ حکم لے کر آ گیا کہ تم کو اس امر میں کوئی دخل نہیں۔ اللہ یا تو ان کی توبہ قبول کرے گا یا ان کو عذاب دے گا (2:128)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader