غزؤۂ احد
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک دوسری روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب زخمی ہوئے تو آپ نے مخالفین کے کچھ سرداروں کے نام لے کر ان کے خلاف ہلاکت کی دعا کی۔ مثلاً صفوان بن امیہ اور سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام۔ مگر شدید سرکشی کے باوجود اللہ نے اس کی تائید نہیں کی اور رسول اللہ کو واپس بد دعا کرنے سے منع فرما دیا۔ اس کی مصلحت بعد کو سامنے آئی۔ کیوں کہ بعد کو یہ تمام سردار اسلام میں اخل ہو گئے اور اسلام کی طاقت کا ذریعہ بنے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تنبیہ کی گئی تو آپ نے فوراً اپنا انداز بدل دیا۔ اب آپ ان کی ہلاکت کے بجائے ان کی ہدایت کی دعا کرنے لگے۔ اب آپ کی زبان پر ان کی بابت یہ الفاظ تھے: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔ اے رب، میری قوم کو بخش دے کیوں کہ وہ جانتے نہیں ہیں (فتح الباری، جلد 8، صفحہ 508)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب زخمی ہو گئے اور آپ کے جسم سے کافی خون نکل گیا تو اس وقت آپ نے ایک غار میں پناہ لی۔ کچھ دیر کے لیے آپ لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ آپ خدا ناخواستہ شہید ہو گئے۔ اسی اثناء میں کعب بن مالک کی نظر آپ پر پڑی۔ وہ آپ کے پاس آئے اور یہ چاہا کہ بلند آواز سے کہیں کہ اے مسلمانو، تم کو خوش خبری ہو کہ رسول اللہ یہاں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے ان کو منع فرمایا کیوں کہ اعلان کی صورت میں یہ اندیشہ تھا کہ مخالفین اس کو جان لیں گے اور کوئی نیا مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ جنگ کے آخری مرحلہ میں جو واقعات پیش آئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ مخالف لشکر کا سردار ایک پہاڑی پر کھڑا ہوا۔ اس نے کہا: أُعْلُ هُبَلْ، أُعْلُ هُبَلُ (ہبل بلند ہو، ہبل بلند ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا کہ اس کے جواب میں یہ کہو، ا للّٰهُ أَعْلَى وَأَجَلُ (اللہ ہی بڑا اور برتر ہے) مخالف لشکر کے سردار نے دوبارہ کہا: إِنَّ لَنَا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader