غزؤۂ احد
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
العُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ ( ہمارے پاس عزّیٰ ہے اور تمہارے پاس عزّیٰ نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا تم اس طرح جواب دو: اَللَّهُ مَوْلَانَا، وَلَا مَوْلَى لَكُمْ (اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3039۔ پھر مخالف لشکر کے سردار نے آخر میں کہا: یَوْمٌ بِيَوْمٍ بَدْرٍ اَلَا إِنَّ الْأَيَّامَ دُوَلٌ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ ۔ یہ دن بدر کے دن کا جواب ہے۔ اور لڑائی ڈول کی مانند ہے (کبھی اوپر کبھی نیچے)۔ یہ سن کر حضرت عمر نے جواب دیا کہ : لَا سَوَاءَ، قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ ( ہم اور تم برابر نہیں ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین آگ میں) مغازی الواقدی، جلد 1، صفحہ 297۔ اس جنگ میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کے بہت سے لوگ شہید ہوئے تو مخالفین نے ان شہداء کے جسموں کو لے کر ان کا مثلہ کیا۔ ان کے کان اور ناک کاٹے ۔ اور اس طرح ان کا حلیہ بگاڑ کر خوشی منائی۔ مگر جب کے آخر میں جب مخالف لشکر کے سردار ابو سفیان کی ملاقات حضرت عمر سے ہوئی تو ابو سفیان نے حضرت عمر سے کہا کہ اس موقع پر تمہارے مقتولین کا مثلہ کیا گیا۔ خدا کی قسم میں نہ اس پر راضی ہوانہ میں نے اس کو ناپسند کیا، نہ میں اس سے روکا اور نہ میں نے اس کا حکم دیا۔ (اِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثْلٌ، وَاللَّهِ مَا رَضِيتُ، وَمَا سَخِطْتُ، وَمَا نَهَيْتُ، وَمَا أَمَرْتُ) سیرۃ ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 94۔ غزوہ احد میں کچھ مسلم خواتین نے بھی شرکت کی۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ احد کے دن میں نے حضرت عائشہ اور اپنی والدہ ام سلیم کو دیکھا کہ کپڑے سمیٹے ہوئے پانی کی مشک بھر بھر کر پشت پر رکھ کر لاتی ہیں اور میدان جنگ میں لوگوں کو پلاتی ہیں۔ جب مشک خالی ہو جاتی ہے تو پھر بھر کر لاتی ہیں۔ اسی طرح حضرت عمر کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری کی والدہ ام سلیط بھی احد کے دن ہمارے لیے مشک بھر بھر کر پانی لاتی تھیں۔ ربیع بن معوذ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader