سیرتِ رسول
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتے تھے کہ لوگوں کو پانی پلائیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کریں اور مقتولین کو اٹھا کر لائیں۔ مگر ہم لوگ جنگ نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح ام عطیہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوات میں مریضوں کی خبر گیری اور زخمیوں کے علاج کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ ان عورتوں نے فقط لوگوں کو پانی پلایا اور مریضوں اور زخمیوں کی خبر گیری کی لیکن قتال نہیں کیا۔ مگر ام عمارہ نے جب دیکھا کہ ابن قمیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر رہا ہے تو انہوں نے اس حالت میں آگے بڑھ کر مقابلہ کیا۔ غزوہ احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے۔ ان میں سے بیشتر انصار سے تعلق رکھتے تھے۔ تجہیز وتکفین کے وقت بے سروسامانی کی بنا پر بہت سے عبرت انگیز واقعات پیش آئے۔ مثلاً مصعب بن عمیر کی تکفین ہونے لگی تو معلوم ہوا کہ جس چادر میں ان کو کفن دینا تھا وہ چھوٹی ہے۔ سراگر ڈھانکا جاتا تھا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں ڈھکے جاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سر ڈھانک دو اور پیروں پر اذخر (گھاس) ڈال دو۔ احد کے ان شہداء کو نہلائے بغیر دفن کیا گیا۔ بعض لوگوں نے شہیدوں کے تئیں یہ ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اپنے شہیدوں کو لے جا کر مدینہ میں دفن کریں گے۔ رسول اللہ نے منع فرمایا اور حکم دیا کہ جہاں شہید ہوئے وہیں دفن کر دیا جائے۔ غزوہ حمراء الاسد شوال 3ھ احد کی جنگ مدینہ شہر سے تین کلومیٹر باہر احد پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔ اس جنگ میں اہل ایمان کو شکست ہوئی۔ شکست کے بعد قریش کا لشکر احد سے مکہ کی طرف روانہ ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader