غزوۂ حمراء الاسد
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
گیا ۔ چلتے ہوئے انہوں نے حمراء الاسد کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ اپنے جاسوس بھیجا کرتے تھے تاکہ وہ دشمنوں کی خبر لے آئیں۔ چنانچہ احد کی جنگ کے بعد جب قریش کا لشکر روانہ ہوا تو آپ نے بھی اپنے جاسوس ان کی خبر گیری کے لیے بھیج دیے۔ یہ لوگ چلتے ہوئے حمراء الاسد تک پہنچے ۔ وہاں انہیں معلوم ہوا کہ لشکر قریش کے سردار ابو سفیان اور دوسرے قریشی سردار یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم سے ایک بڑی بھول ہو گئی ۔ احد کے مقام پر جب ہم نے مسلمانوں کو شکست دیدی تھی تو ہمیں آگے بڑھ کر مدینہ میں داخل ہو جانا چاہتا تھا تا کہ مسلمانوں کی طاقت کو ان کے مرکز میں پوری طرح کچل دیا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاسوسوں کو جب یہ خبر ہوئی تو وہ تیز رفتار سواری کے ذریعے رسول اللہ کے پاس واپس آئے اور آپ کو قریش کے اس نئے ارادے سے باخبر کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوری طور پر یہ فیصلہ فرمایا کہ ان کے مدینہ آنے سے پہلے ہمیں اقدام کرنا چاہیے۔ اس وقت صحابہ اگرچہ تھکے ہوئے تھے اس کے باجود وہ فوراً تیار ہو گئے۔ چنانچہ آپ صحابہ کو لے کر حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوئے۔ خلاف معمول یہ سفر پورے اعلان کے ساتھ کیا گیا۔ اہل ایمان راستہ میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔ غزوہ حمراء الاسد کا مقصد دراصل لڑائی نہ تھا بلکہ قریش کو مرعوب کرنا تھا تا کہ وہ مدینہ کی طرف اقدام کی ہمت نہ کریں اور مکہ واپس چلے جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قریش کو معبد خزاعی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا لشکر اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ ان کی طرف آ رہا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ شاید مسلمانوں کو کوئی فوجی مدد پہنچ گئی ہے اور وہ شکست کا بدلہ لینے کے لیے ہماری طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ ہم کو تیزی سے چل کر مکہ پہنچ جانا چاہیے تا کہ اگر مقابلہ ہو تو مکہ میں ہو۔ رسول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader