Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاسوس برابر آپ کو خبریں پہنچارہے تھے۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ قریش کا لشکر مکہ کی طرف روانہ ہو گیا ہے تو آپ نے مسلمانوں سے کہا کہ اب واپس مدینہ چلو۔ کیوں کہ ہمارا جو مقصد تھا وہ حاصل ہو گیا۔ سریہ ابی سلمہ عبداللہ بن عبد الاسد محرم 4ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ خود اپنی طرف سے جنگی اقدام کا نہ تھا۔ البتہ جب آپ کو خبر ملتی کہ فریق مخالف حملہ کرنے والا ہے تو آپ فوراً اس کی طرف اقدام فرماتے تھے۔ اس طرح کی جن مہموں میں آپ خود شریک رہے ان کو غزوہ کہا جاتا ہے اور جو مہمیں کسی صحابی کی سرداری میں بھیجی گئیں ان کو اصطلاحی طور پر سر یہ کہا جاتا ہے۔ یکم محرم الحرام 4ھ میں آپ کو یہ خبر ملی کہ خویلد کے بیٹے طلحہ اور سلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کر رہے ہیں۔ تو آپ نے ابوسلمہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ڈیڑھ سو مہاجرین اور انصار کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لیے روانہ فرمایا۔ وہ لوگ اس کی خبر پاتے ہی بھاگ گئے۔ طلحہ بن خویلد نے بعد کو اسلام قبول کر لیا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد اسلام سے پھر گئے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کے مقابلہ کے لیے خالد بن ولید کو روانہ کیا۔ طلحہ بھاگ کر شام چلے گئے، اور تائب ہو کر پھر اسلام میں داخل ہوئے۔ اور مسلمانوں کے ساتھ برابر لڑائیوں میں شریک رہے۔ حضرت عمر کے عہد خلافت میں جنگ قادسیہ اور معرکہ نہاوند میں بھی شریک رہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ 21ھ میں معرکہ نہاوند میں شہید ہوئے۔ طلحہ کے دوسرے بھائی سلمہ مسلمان نہیں ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page