Urdu book · سیرتِ رسول

واقعہ رجیع

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

واقعہ رجیع صفر 4ھ قبیلہ عضل اور قارہ کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ ہمارے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ایسے چند لوگ ہمارے ساتھ کر دیجئے جو ہم کو قرآن پڑھائیں اور اسلام کے احکام کی ہم کو تعلیم دیں۔ آپ نے مدینہ کے دس مسلمان ان کے ساتھ کر دیے ۔ اور عاصم بن ثابت کو ان پر امیر مقرر فرمایا۔ یہ لوگ جب مقام رجیع پر پہنچے جو مکہ اور عسفان کے مابین واقع ہے تو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کی، اور بنو لحیان کو اشارہ کر دیا۔ بنو لحيان دو سو آدمی لے کر جن میں ایک سو تیر انداز تھے، ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے ۔ جب قریب پہنچے تو حضرت عاصم مع اپنے ساتھیوں کے ایک ٹیلہ پر چڑھ گئے۔ اس کے بعد دونوں میں مقابلہ ہوا جس میں آٹھ مسلمان شہید ہوئے۔ یہ واقع صفر 4ھ میں پیش آیا۔ سریہ القراء یعنی قصہ بئر معونہ صفر 4ھ صفر 4ھ میں دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ عامر بن مالک ابو براء آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی لیکن ابو براء نے نہ تو اسلام قبول کیا اور نہ رد کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ اگر آپ چند اصحاب اہل نجید کی طرف دعوت اسلام کی غرض سے روانہ فرمائیں تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس دعوت کو قبول کر لیں گے ۔ آپ نے فرمایا مجھ کو اہل نجد سے اندیشہ ہے۔ ابو البراء نے کہا کہ میں ضامن ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر صحابہ کو جو قراء ( قرآن پڑھ کر سنانے والے ) کہلاتے تھے، ان کے ساتھ روانہ کیا۔ منذر بن عمرو ساعدی کو ان کا امیر مقرر کیا۔ وہ دن کو لکڑیاں چنتے اور شام کو فروخت کر کے اصحاب صفہ کے لیے کھانا لاتے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page