ابتدائی حالات
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
ابراہیم جو بچپن میں انتقال کر گئے، ان کے سوا آپ کی تمام اولاد خدیجہ بنتِ خویلد سے تھی۔ آپ کے تمام فرزند بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ صاحبزادیوں میں رقیہ، زینب، ام کلثوم اور فاطمہ، زمانہ اسلام تک رہیں۔ وہ سب آپ پر ایمان لائیں اور آپ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 35 سال تھی۔ اس وقت قریش نے کعبہ کی نئی تعمیر کا ارادہ کیا۔ انہوں نے سابقہ تعمیر کو ڈھا دیا اور پتھر جمع کر کے نئی دیوار بنانا شروع کیا۔ جب دیوار کی بلندی وہاں تک پہنچی جہاں حجر اسود کو نصب کرنا تھا تو قبیلوں میں جھگڑا ہو گیا۔ ہر قبیلہ یہ چاہنے لگا کہ وہ حجر اسود کو اٹھا کر اس کے مقام پر رکھے۔ کوئی شخص یہ حق دوسرے کو دینے پر راضی نہ تھا۔ یہ اختلاف یہاں تک بڑھا کہ لوگ جن پر آمادہ ہو گئے ۔ یہ صورت حال غالباً 5 دن تک جاری رہی۔ آخران کے بعض بڑوں نے مداخلت کر کے انہیں آمادہ کیا کہ وہ باہم مشورہ کریں اور مسئلہ کا پر امن حل تلاش کریں۔ کہا جاتا ہے کہ ابو امیہ بن مغیرہ جو قریش کا ایک بوڑھا آدمی تھا، ان نے یہ تجویز پیش کی کہ کل صبح کو جو پہلا شخص مسجد کے اندر داخل ہو اس کو ثالث بنا لیا جائے اور اس کے فیصلہ کی روشنی میں اس اختلافی مسئلہ کو حل کیا جائے ۔ سب نے یہ رائے مان لی۔ اگلے دن جب وہ لوگ بیت اللہ میں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے اندر داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، انہوں نے آپ کو دیکھ کر کہا یہ تو امین (محمد) ہیں۔ ہم ان کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ لوگوں کی درخواست پر آپ نے کہا کہ میرے پاس ایک چادر لے آؤ۔ جب چادر لائی گئی تو آپ نے حجر اسود کو اٹھا کر اس چادر میں رکھ دیا اور کہا کہ ہر قبیلہ کا سردار چادر کے کنارے کو پکڑ لے ۔ اس طرح سب مل کر اس کو اٹھائیں، انہوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader