سیرتِ رسول
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ لوگ یہاں سے چل کر بِرِ معونہ پر جا کر ٹھہرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط عامر بن طفیل کے نام ( جو اپنی قوم کا سردار تھا) لکھوا کر حضرت انس کے ماموں حرام بن ملحان کے سپرد کیا۔ جب یہ لوگ بِرِ معونہ پر پہنچے تو حرام بن ملحان آپ کا مکتوب لے کر عامر بن طفیل کے پاس گئے۔ عامر بن طفیل نے خط دیکھنے سے پہلے ہی ایک شخص کو ان کے قتل کا اشارہ کیا۔ اس نے پیچھے سے ایک نیزہ مارا جو جسم کے پار ہو گیا اور بنی عامر کو بقیہ صحابہ کے قتل پر ابھارا لیکن عامر کے چچا ابو براء کے پناہ دینے کی وجہ سے بنو عامر نے امداد دینے سے انکار کر دیا۔ عامر بن طفیل جب ان سے ناامید ہوا تو بنو سلیم سے مدد چاہی۔ عصہ اور عل اور ذکوان یہ قبائل اس کی امداد کے لیے تیار ہو گئے اور سب نے مل کر تقریباً تمام صحابہ کو بلا قصور شہید کر ڈالا۔ غزوہ بنی نضیر ربیع الاول 4ھ عمرو بن امیہ ضمری جب بِرِ معونہ سے واپس ہو رہے تھے تو راستہ میں بنی عامر کے دو مشرک ساتھ ہو لیے۔ وہ مقام قناہ میں پہنچ کر ایک باغ میں ٹھہرے ۔ جب وہ دونوں سو گئے تو عمرو بن امیہ ضمری نے انتقاماً دونوں کو قتل کر دیا اور مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ان سے ہمارا عہد ہے ان کی دیت دینا ضروری ہے۔ بنی نضیر بھی چونکہ بنی عامر کے حلیف تھے۔ اس لیے از روئے معاہدہ دیت کا کچھ حصہ جو بنی نضیر کے ذمہ بھی واجب الادا تھا۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ بنو نضیر کے پاس گئے۔ بنو نضیر نے بظاہر خندہ پیشانی سے جواب دیا اور دیت میں شرکت کا وعدہ کیا۔ لیکن آپس میں یہ مشورہ کیا کہ ایک شخص چھت پر چڑھ کر اوپر سے ایک بھاری پتھر گرا دے تا کہ آپ دب کر ہلاک ہو جائیں۔ ابھی آپ بیٹھے ہی تھے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ ان کی سازش سے باخبر کیا گیا۔ آپ فوراً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader