Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

وہاں سے اٹھ کر مدینہ تشریف لے گئے۔ اور بنو نضیر پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ آپ عبداللہ بن ام مکتوم کو مدینہ کا عامل مقرر کر کے بنو نضیر کی طرف روانہ ہوئے اور جا کر ان کا محاصرہ کر لیا۔ بنو نضیر نے اپنے قلعوں میں گھس کر دروازے بند کر لیتے۔ اس طرح بنو نضیر کی غداری اور بد عہدی کی بناء پر آپ نے ان پر حملہ کا حکم دیا۔ اور پندرہ روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا اور ان کے باغوں اور درختوں کے کاٹنے اور جلانے کا حکم دیا بابا لاخر وہ امن کے طلب گار ہوئے۔ آپ نے فرمایا دس دن کی مہلت ہے مدینہ خالی کر دو۔ اپنے اہل و عیال بچوں اور عورتوں کو جہاں چاہو لے جاؤ۔ سوا سامان جنگ کے جس قدر سامان اونٹوں اور سواریوں پر لے جا سکتے ہو اس کی اجازت ہے۔ یہود کے ساتھ یہ معاملہ ان کی مقدس کتاب تورات کے مطابق کیا گیا کیوں کہ تورات میں غداری کی سزا جلا وطنی بتائی گئی ہے۔ غزوة ذات الرقاع جمادی الاولیٰ 4ھ غزوہ بنو نضیر کے بعد ربیع الاول سے لے کر شروع جمادی الاولیٰ تک آپ مدینہ میں مقیم رہے۔ شروع جمادی الاولیٰ میں آپ کو یہ خبر ملی کہ بنی محارب اور بنی ثعلبہ آپ کے مقابلہ کے لیے لشکر جمع کر رہے ہیں۔ آپ چار سو صحابہ کی جمعیت کے ساتھ نجد کی طرف روانہ ہوئے، جب آپ وہاں پہنچے تو قبیلہ غطفان کے کچھ لوگ ملے، مگر لڑائی کی نوبت نہیں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صلاۃ الخوف پڑھائی۔ بن سعد کہتے ہیں کہ ذات الرقاع ایک پہاڑ کا نام ہے جہاں آپ نے اس غزوہ میں قیام کیا تھا۔ اس لیے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع پڑ گیا۔ واپسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سایہ دار درخت کے نیچے آرام کیا اور تلوار درخت سے لٹکا دی۔ ایک مشرک آیا اور تلوار لے کر کھڑا ہو گیا۔ اور آپ سے پوچھا کہ اے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page