سیرتِ رسول
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
محمد، تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا، اللہ۔ اس کے بعد اس نے تلوار رکھ دی۔ اب آپ نے تلوار لے کر کہا تم کو مجھ سے کون بچائے گا وہ گھبرا گیا۔ آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے کہا کہ اب میں آپ کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہوں گا۔ بعد کو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ غزوہ بدر موعد شعبان 4ھ غزوہ ذات الرقاع سے واپسی کے بعد آخر رجب تک آپ مدینہ میں مقیم رہے۔ احد سے واپسی کے وقت چونکہ ابوسفیان سے وعدہ ہو چکا تھا کہ سال آئندہ بدر میں مقابلہ ہوگا۔ اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سو صحابہ کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوئے ۔ بدر پہنچ کر آٹھ روز تک ابوسفیان کا انتظار کیا۔ ابوسفیان اور اہل مکہ مر الظہران تک پہنچے لیکن مقابلہ کی ہمت نہ ہوئی اور یہ کہہ کر واپس ہو گئے کہ یہ سال قحط اور گرانی کا ہے، جنگ و جدال کا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ روز کے انتظار کے بعد بلا جدال وقتال مدینہ واپس ہو گئے ۔ غزوہ دومۃ الجندل ربیع الاول 5ھ ماہ ربیع الاول میں آپ کو یہ خبر ملی کہ دومۃ الجندل کے لوگ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ایک ہزار صحابہ کے ساتھ دومۃ الجندل کی طرف روانہ ہوئے ۔ وہ لوگ خبر سنتے ہی منتشر ہو گئے، اور آپ بلا جدال وقتال واپس ہوئے۔ اس طرح کی تمام مہموں کا مقصد یہی تھا۔ یہ مہمیں حقیقتاً جنگ کے لیے نہیں ہوتی تھیں بلکہ فریق مخالف کو مرعوب کرنے کے لیے ہوتی تھیں تا کہ وہ بے حوصلہ ہو کر واپس چلے جائیں اور جنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader