غزوۂ مریسيع یا بنی المصطلق
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
غزوہ مریسیع یا بنی المصطلق شعبان 5ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ حارث بن ابی ضرار سردار بنی المصطلق نے ایک بڑی فوج جمع کی ہے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ آپ نے بریدہ بن حصیب اسلمی کو تحقیق حال کے لیے روانہ کیا۔ بریدہ نے آ کر بیان کیا کہ خبر صحیح ہے۔ آپ نے صحابہ کو تیاری کا حکم دیا۔ صحابہ فوراً تیار ہو گئے۔ تیس گھوڑے ساتھ لیے جس میں سے دس مہاجرین کے اور بیس انصار کے تھے۔ مدینہ میں زید بن حارثہ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا اور ام المومنین عائشہ صدیقہ نیز ام سلمہ کو ساتھ لیا۔ اور جا کر ان سے مقابلہ آرا ہوئے۔ مسلمانوں کو اس میں فتح حاصل ہوئی۔ اس موقع پر یہ واقعہ پیش آیا کہ دوران سفر پانی کے ایک چشمے پر مہاجر و انصار کے درمیان جھگڑا چھڑ گیا۔ چنانچہ مہاجر نے یالمہا جرین اور انصار نے یالانصار کہہ کر اپنے اپنے لوگوں کو پکارا۔ رسول اللہ نے جب یہ آوازیں سنیں تو فرمایا، یہ جاہلیت کی ایسی آوازیں کیسی۔ لوگوں نے صورتحال سے آپ کو باخبر کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: دَعوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةُ (مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 18041)۔ یعنی، ان باتوں سے باز آجاؤ کیوں کہ یہ گندی اور بدبودار ہیں۔ واقعہ افک واقعہ افک اسی سفر میں پیش آیا۔ حضرت عائشہ اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ واپسی میں لشکر نے مدینہ کے قریب پہنچ کر ایک مقام پر قیام کیا۔ حضرت عائشہ قضاء حاجت کے لیے لشکر سے دور چلی گئیں۔ جب لوٹنے لگیں تو ہار ٹوٹ کر گر گیا جس کو تلاش کرنے میں دیر ہوگئی۔ اس اثناء میں لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا گیا۔ ہودج کے پردے گرے ہوئے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader