Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عائشہ مکمل میں ہیں۔ اس لیے وہ محمل کو اونٹ پر رکھ کر روانہ ہوگئے۔ جب حضرت عائشہ واپس آئیں تو یہاں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اسی جگہ چادر لپیٹ کر لیٹ گئیں۔ صفوان بن معطل جو قافلہ کی گری پڑی چیزوں کے اٹھانے کے لیے پیچھے رہا کرتے تھے۔ وہ حسب معمول وہاں آئے۔ انہوں نے حضرت عائشہ کو پہچان لیا۔ انہوں نے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: وَاللَّهِ مَا كَلَّمَنِي كَلِمَةً، وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 25623)۔ یعنی، خدا کی قسم، صفوان نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے ان کی زبان سے سوا اُن للہ کے کوئی اور کلمہ سنا۔ حضرت صفوان نے اپنا اونٹ لا کر حضرت عائشہ کے قریب بٹھایا۔ حضرت عائشہ اس پر سوار ہو گئیں اور حضرت صفوان نکیل پکڑ کر روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ بقیہ مسلمانوں سے مل گئے۔ جب منافقین کو اس کی خبر ہوئی تو وہ تہمت کی باتیں پھیلانے لگے۔ اس واقعہ نے مدینہ میں فتنے کی شکل اختیار کر لی۔ آخر کار حضرت عائشہ کی برات میں سورہ النور کی آیتیں نازل ہوئیں اور یہ ہنگامہ ختم ہوا۔ غزوہ خندق یا غزوہ احزاب شوال 5ھ اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ بنو نضیر کی جلاوطنی کے بعد یہودی سردار حی بن اخطب مکہ گیا اور وہاں کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا اور کنانہ بن ربیع نے جا کر بنی غطفان کو آپ کے مقابلہ کے لیے تیار کیا اور ان کو لالچ دلایا کہ خیبر کے نخلستان میں جس قدر کھجوریں آئیں گی ہر سال اس کا نصف حصہ ہم تم کو دیا کریں گے۔ یہ سن کر یہ لوگ تیار ہو گئے۔ قریش پہلے ہی سے تیار تھے۔ اس طرح ابوسفیان کی قیادت میں دس ہزار سے زیادہ افراد کا لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page