Urdu book · سیرتِ رسول

غزوۂ خندق یا غزؤۂ احزاب

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی روانگی کی خبر ملی تو صحابہ سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فرمایا۔ اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم کی۔ صحابہ کرام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی خندق کھودنے میں مصروف تھے۔ خندق کا یہ طریقہ عربوں کے لیے نیا تھا۔ تاہم جنگ سے بچنے کی یہ ایک بہترین تدبیر تھی ۔ اس وجہ سے آپ نے اس کو پسند کیا۔ مسلمان خندق کھود کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ قریش دس ہزار سے زیادہ آدمیوں کا لشکر لے کر مدینہ آپہنچے۔ جب ان لوگوں نے مدینہ کے باہر خندق دیکھی تو حیرت زدہ ہو گئے۔ اور خندق کے باہر پڑاؤ ڈال لیا۔ تین ہفتے اسی طرح گزر گئے مگر دست بدست لڑائی اور مقابلہ کی نوبت نہیں آئی۔ صرف طرفین کے مابین اکا دکا تیر اندازی کے واقعات پیش آئے۔ غزوۂ خندق اسلام کی تاریخ میں سب سے زیادہ سخت غزوہ ہے۔ قرآن میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں کہ۔ جب تمہارے دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے، اوپر کی طرف سے اور نیچے کی طرف سے اور آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے۔ اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس موقع پر ایمان والے آزمائے گئے اور وہ بری طرح ہلا مارے گئے (11-33:10)۔ ہجرت کے بعد یہود کا قبیلہ بنی نضیر اپنی سازشوں کی وجہ سے مدینہ سے نکالا گیا۔ اس کے بعد وہ مختلف بڑے بڑے قبائل میں گئے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف خوب اکسایا۔ چنانچہ وہ قریش، بنو فزارہ، غطفان اور ہزیل وغیرہ قبائل کی متحدہ طاقت کو مدینہ پر چڑھاہ لانے میں کامیاب ہو گئے۔ تقریباً 12 ہزار کے لشکر نے مدینہ کو گھیر لیا۔ مدینہ کے اندر آباد یہودی قبیلہ بنو قریظہ بھی ان کے ساتھ ہو گیا۔ مدینہ میں مسلمانوں کی جمعیت کل 3 ہزار تھی جن میں قابل لحاظ تعداد ان منافقین کی تھی جن پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page