Urdu book · سیرتِ رسول

غزوۂ خندق یا غزؤۂ احزاب

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی جنگی تدبیر کی جس سے عرب اب تک واقف نہ تھے۔ یہ مدینہ کے کھلے علاقہ کی طرف ایک خندق تھی جو تین ہفتہ کے محاصرہ کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان روک بنی رہی۔ اسلام دشمنوں کی فوج ابھی مدینہ میں داخل نہیں ہو سکی تھی کہ ایک زبردست آندھی آئی جس میں دشمن فوج کے خیمے اکھڑ گئے۔ ریت اور سنگریزے اڑ کر ان کے منہ پر لگتے تھے۔ ان کے چولہے بجھ گئے اور دریچے زمین پر جاپڑے۔ گھوڑے رسی ٹڑا کر بھاگنے لگے۔ ان چیزوں نے دشمن کے لشکر کو اتنا پریشان کر دیا کہ وہ اپنا ارادہ ترک کر کے واپس چلے گئے۔ اس وقت حالات اتنے شدید تھے کہ ایک بدری صحابی معتب ابن قشیر کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا: كَانَ مُحَمَّدٌ يَعِدُنَا أَنْ نَأْكُلَ كُنُوزَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وَأَحَدُنَا لَا يَأْمَنُ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْغَائِط (سيرة ابن هشام، جلد 2، صفحہ (121) ۔ یعنی، محمد ہم سے وعدہ کرتے تھے کہ ہم کسریٰ اور قیصر کے خزانے کھائیں گے اور آج ہمارا ایک شخص اپنے آپ کو اس کے لیے بھی محفوظ نہیں پاتا کہ وہ بیت الخلا جائے۔ ایک طرف یہ شدید حالات تھے، دوسری طرف عین انہی دنوں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمان جب خندق کھود رہے تھے تو ایک بھاری چٹان ان کے سامنے آگئی جس پر ان کی کدال کام نہیں کر رہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ چٹان کے پاس آئے۔ کدال اپنے ہاتھ میں لی اور بسم اللہ کر کے اس پر مارا۔ پہلے ہی ضرب میں چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ نے کہا: اللہ اکبر، مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں۔ پھر دوبارہ کدال ماری تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ نے کہا: اللہ اکبر، مجھے فارس کی کنجیاں دے دی گئیں۔ خدا کی قسم، میں مدائن کے قصرِ ابیض کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے تیسری بار کدال ماری تو چٹان کا بقیہ حصہ بھی ٹوٹ گیا۔ آپ نے فرمایا، اللہ اکبر، مجھ کو یمن کی کنجیاں دے دی گئیں۔ خدا کی قسم،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page