سیرتِ رسول
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اپنے اس مقام صنعاء کے دروازے پر دیکھ رہا ہوں (سیرة ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 194)۔ محاصرہ کے دوران غطفان کے ایک رئیس نعیم بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کر لیا۔ اور کہا کہ ابھی میرے اسلام لانے کی خبر نہیں پھیلی ہے۔ اگر اجازت ہو تو کوئی تدبیر کروں۔ آپ نے اجازت دی اور فرمایا: الْحَرْبُ خُدْعَةٌ (لڑائی نام ہے حیلہ اور تدبیر کا)۔ مسند احمد، حدیث نمبر 1804 چنانچہ نعیم نے ایسی تدبیر کی کہ قریش اور بنو قریظہ میں پھوٹ پڑگئی۔ اور بنو نضیر قریش کی امداد سے دست کش ہو گئے۔ اور اسی کے ساتھ تیز ہوا چلی اور اس طرح اللہ نے مشرکین کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس سے ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔ آخر کار مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ غزوہ بنی قریظہ ذی قعدہ 5ھ غزوہ خندق کے خاتمہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن بنی قریظہ پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ بنی قریظہ پر چڑھائی کا اصل سبب ان کی غداری تھی۔ بنی قریظہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا۔ جب قریش دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو بنی قریظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کو توڑ کر قریش کے ساتھ مل گئے۔ جب غزوہ احزاب میں ان کو شکست ہوئی تو بنی قریظہ قلعوں میں گھس گئے۔ آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ جتنی جلد ممکن ہو بنو قریظہ کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اسی موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص بنی قریظہ کی بستیوں تک پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے۔ پھر حضرت علی کو جھنڈا دے کر روانہ کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر بنی قریظہ کا محاصرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader