Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا ۔ پچیس روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا۔ طویل محاصرہ کے بعد آخر کار بنو قریظہ اس بات پر آمادہ ہوئے کہ رسول اللہ جو حکم دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ آپ نے ان کو یہ پیغام دیا کہ تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا فیصلہ تم ہی میں کا ایک شخص کر دے ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ سعد بن معاذ جو فیصلہ کر دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ چنانچہ سعد بن معاذ کو بلایا گیا اور آپ نے کہا کہ اے سعد ان لوگوں نے اپنا فیصلہ تمہارے سپرد کیا ہے۔ حضرت سعد نے تو رات کے مطابق ، یہ فیصلہ کیا کہ ان کے لڑنے والے قتل کئے جائیں اور عورتیں اور بچے غلام بنا لیے جائیں ، اور ان کا تمام مال و اسباب مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے۔ سر یہ محمد بن مسلمہ انصاری محرم الحرام ۶ھ 10 محرم الحرام ۶ھ کو رسول اللہ نے تیس سواروں کو محمد بن مسلمہ بن مسلمہ انصاری کی سربراہی میں قرطاء کی جانب روانہ کیا۔ مخالفین سے مڈبھیڑ ہوئی ، اور اس میں مسلمان فتح یاب ہوئے۔ اس سر یہ میں مسلمانوں نے بنی حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے رسول اللہ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے انہیں مسجد کے ستون سے باندھنے کا حکم دیا۔ اس حکم میں یہ مصلحت تھی کہ ثمامہ مسلمانوں کے طریق عبادت اور خدا کے آگے تضوع اور سپر دگی کی کیفیت کا مشاہدہ کریں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ رسول اللہ جب ان کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے کہ اے ثمامہ، میری نسبت تمہارا کیا گمان ہے“۔ وہ جواب دیتے: اگر آپ احسان فرمائیں تو یہ ایک شکر گزار پر احسان ہو گا۔ مسافت طے کر کے ذی قرد پہنچے۔ آپ اپنے روانہ ہونے سے پہلے چند سوار روانہ فرما چکے تھے۔ ان لوگوں نے پہلے پہنچ کر دشمنوں کا مقابلہ کیا۔ دو آدمی دشمنوں کے مارے گئے اور مسلمانوں میں ایک شہید ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page