سریہ عکاشہ بن محصن
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
سریہ عکاشہ بن محسن ربیع الاول 6ھ ایک حملہ کی خبر سن کر ماہ ربیع الاول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عکاشہ بن محسن کو چالیس آدمیوں کے ساتھ غمر کی جانب روانہ کیا لیکن وہ لوگ خبر پاتے ہی بھاگ گئے ۔ جب وہاں کوئی نہ ملا تو شجاع بن وہب کو ادھر ادھر تلاش کے لیے روانہ کیا۔ لیکن کچھ پتہ نہ چلا۔ انہی میں کے ایک شخص سے ان کا پتا معلوم کیا اور وہاں پہنچ کر ان کی خبر لی۔ سریہ محمد بن سلمہ ربیع الآخر 6ھ ربیع الآخر 6ھ میں بنی ثعلبہ اور بنی عوال کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ خبر معلوم ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن سلمہ کو دس آدمیوں کے ساتھ ذی القصہ کی طرف بنی ثعلبہ اور بنی عوال کے مقابلہ میں روانہ کیا۔ وہ لوگ رات کو پہنچے اور وہاں پہنچ کر سو گئے۔ دشمن پہاڑوں میں چھپا ہوا تھا۔ جب یہ لوگ سو گئے تو تقریباً سو آدمیوں نے آ کر شب خون مارا اور سب کو شہید کر ڈالا۔ صرف محمد بن سلمہ اتفاقاً بچ گئے۔ سریہ ابو عبیدہ بن الجراح مذکورہ واقعہ کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ کو چالیس آدمیوں کے ساتھ ذی القصہ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر ان پر حملہ کیا۔ وہ پسپا ہو کر بھاگ نکلے۔ اس کو سریہ ذی القصہ ثانی کہا جاتا ہے۔ سریہ جموم ربیع الآخر 6ھ اسی طرح کے ایک اور حملہ کی خبر سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader