Urdu book · سیرتِ رسول

ابتدائی حالات

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو لے کر مقام نصب تک پہنچے تو آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے اٹھا کر مطلوبہ جگہ پر رکھ دیا۔ اس کے بعد کعبہ کی تعمیر دوبارہ جاری ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے کی زندگی کے بارے میں بہت سے واقعات سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں۔ یہاں چند مزید واقعات مختصر طور پر نقل کیے جاتے ہیں۔ قدیم عرب میں تین اشخاص— فضل بن فضالہ، فضل بن وداعہ، فضیل بن حارث۔ انہوں نے باہم مل کر ایک معاہدہ مرتب کیا۔ ان لوگوں کے نام کے آغاز میں چونکہ ’’فضل‘‘ تھا، اس لیے یہ معاہدہ حلف الفضول کے نام سے مشہور ہوا۔ ابن ہشام نے اس کی بابت زبیر بن عبد المطلب کے کچھ اشعار نقل کیے ہیں۔ اس کا ایک شعر یہ ہے کہ فضل نامی اشخاص نے حلف لیا اور باہم معاہدہ کیا کہ مکہ میں کوئی ظالم نہ رہنے پائے گا: الإفضول تحالفوا و تعاقدوا الأيقيم ببطن مكة ظالمٔ مذکورہ اشخاص کے انتقال کے بعد یہ معاہدہ عملاً ختم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً پندرہ سال کی تھی کہ عرب میں وہ خانہ جنگی ہوئی جس کو حرب الفجار کہا جاتا ہے۔ اس میں قریش اور قیس کے قبیلے آپس میں لڑے تھے۔ اس کے بعد بدامنی بہت بڑھ گئی۔ چنانچہ لوگوں کو خیال ہوا کہ حلف الفضول کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ یمن کا ایک شخص مکہ آیا۔ اس نے اپنا تجارتی سامان العاص بن وائل السہمی کے ہاتھ فروخت کیا۔ اس نے سامان کی پوری قیمت ادا نہ کی۔ اس کے بعد مذکورہ آدمی نے کچھ اشعار کہے۔ ان اشعار میں اپنی مظلومی بیان کی اور اس پر فریاد کی ۔ اس سے مکہ والوں کی غیرت بھڑک اٹھی ۔ زبیر بن عبد المطلب کی تحریک پر بہت سے لوگ عبد اللہ بن جدعان کے گھر پر جمع ہوئے۔ گفتگو اور مشورہ کے بعد طے ہوا کہ حلف کی تجدید کی جائے ۔ چنانچہ لوگوں نے دوبارہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page