Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

سریہ حمی جمادی الاخریٰ 6ھ دحیہ کلبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لے کر قیصر روم کے پاس گئے تھے۔ قیصر روم نے ان کو کئی تحفے دے کر واپس کیا۔ واپسی میں حمی کے قریب پہنچے تو ہنیہ جذامی نے قبیلہ جذام کے لوگوں کو لے کر ان کے اوپر ڈاکہ مارا اور سامان چھین لیا۔ رفاعہ بن زید جذامی کو جب معلوم ہوتا تو انہوں نے ہنیہ سے وہ تمام سامان چھین کر دحیہ کلبی کو واپس کیا۔ جب دحیہ کلبی مدینہ پہنچے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے پانچ سو صحابہ کو زید بن حارثہ کی سرکردگی میں روانہ کیا۔ اس مہم میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ چونکہ قبیلہ جذام کے ساتھ ہی رفاعہ بن زید کے لوگ بھی رہتے تھے جو مسلمان تھے تاہم غلطی سے ان کے بچے اور عورتیں بھی گرفتار ہوگئیں۔ چنانچہ رفاعہ آپ کے پاس آئے اور صورت حال سے آپ کو واقف کرایا۔ آپ نے حکم دیا کہ تمام قیدی اور سارے مال و اسباب واپس کر دیے جائیں۔ سریہ وادی القریٰ رجب 6ھ رجب 6ھ میں قبیلہ بنی فزارہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ سرکشی پر آمادہ ہے اور مدینہ کے خلاف تخریبی ارادہ رکھتا ہے۔ چنانچہ آپ نے زید بن حارثہ کو قبیلہ بنی فزارہ کی حوصلہ شکنی کے لیے وادی القریٰ کی جانب روانہ کیا۔ وہاں دونوں میں مقابلہ پیش آیا۔ اس کے بعد وہ لوگ بھاگ گئے۔ اس میں چند مسلمان شہید ہوئے اور زید بن حارثہ زخمی ہو گئے۔ سریہ دومۃ الجندال شعبان 6ھ شعبان 6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے کہا: میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page