سریہ عیص
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہیں ایک مہم پر بھیجنے والا ہوں، تیار رہنا۔ اگلے روز جب نماز سے فارغ ہوئے تو عبد الرحمن کو بلایا اور اپنے ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور جھنڈا دے کر سات سو لوگوں کے ساتھ ان کو دومۃ الجندل کی طرف روانہ کیا۔ روانگی کے وقت آپ نے ان کو یہ وصیت کی، خیانت نہ کرنا، غدر نہ کرنا، کسی کی ناک اور کان نہ کاٹنا، بچوں کو قتل نہ کرنا، اور اسلام پیش کرنا، اگر وہ لوگ دعوت قبول کر لیں تو وہاں کے رئیس کی بیٹی سے نکاح کرنے میں تامل نہ کرنا۔ چنانچہ عبد الرحمن بن عوف نے وہاں پہنچنے کے بعد لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ تین دن تک ان کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ تیسرے دن دومۃ الجندل کے رئیس اصبغ بن عمر نے اسلام قبول کر لیا اور ان کے ساتھ اور بہت سے لوگ بھی۔ اور ان کی بیٹی تماضر کی شادی حضرت عبد الرحمن سے ہوئی۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن جو مشہور تابعی ہیں، وہ ان ہی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ اس نکاح کا مقصد قبیلہ سے رشتہ کا تعلق قائم کر کے اس کو اسلام کے قریب لانا تھا۔ سر یہ فدک شعبان ۶ھ شعبان ۶ھ میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنی سعد بن بکر نے خیبر کے یہودی کی امداد کے لے لیے فدک کے قریب لشکر جمع کیا ہے۔ آپ نے حضرت علی کو سو آدمیوں کے ساتھ مقام فدک کی طرف روانہ کیا۔ راستہ میں ان کو ایک شخص ملا۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ بنی سعد کا جاسوس ہے۔ اسے امن دے کر بنی سعد کا پتہ معلوم کیا۔ اس نے ٹھیک ٹھیک پتہ بتا دیا۔ اس کے مطابق وہاں پہنچ کر ان پر حملہ کیا۔ بنو سعد بھاگ گئے اور مسلمان کامیاب ہو کر واپس لوٹے ۔ سر یہ ام قرفه رمضان ۶ھ ام قرفہ ایک عورت کی کنیت ہے جس کا نام فاطمہ بنت ربیعہ تھا۔ یہ عورت قبیلہ بنی فزارہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader