سریہ عیص
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ نے ان کو اجازت دے دی۔ وہاں وہ لوگ رہنے لگے۔ چند روز میں یہ لوگ تندرست ہوگئے ۔ اس کے بعد وہ لوگ اسلام سے پھر گئے۔ انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور سارے اونٹ بھاگالے گئے۔ آپ نے کرز بن جابر فہری کو بیس آدمیوں کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ کیا۔ سب گرفتار کئے گئے۔ آپ نے ان سے قصاص اور بدلہ لینے کا حکم دیا اور جس طرح ان لوگوں نے چرواہے کو قتل کیا تھا اسی طرح ان لوگوں کو بھی قتل کیا گیا۔ بعث عمر بن امیہ ضمری ابوسفیان نے ایک مرتبہ قریش کے مجمع میں یہ کہا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں کہ جو جاکر محمد کو قتل کر آئے۔ ایک اعرابی نے کہا میں اس کام میں بڑا ماہر ہوں اگر تم میری مدد کرو تو میں اس کام کو کر سکتا ہوں۔ ابوسفیان نے اس کو سواری کے لیے ایک اونٹنی دی اور خرچ دیا اور امداد کا وعدہ کیا۔ وہ اعرابی مدینہ کے لیے روانہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی عبد الاشہل میں تھے۔ اس اعرابی کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھ کر کہا یہ کسی بری نیت سے آ رہا ہے۔ اُسید بن حضیر اٹھے اور اس اعرابی کو پکڑ لیا۔ وہ ایک خنجر کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھا جو چھوٹ کر گر گیا۔ آپ نے کہا سچ بتاؤ کس نیت سے آئے ہو۔ اس نے کہا اگر امن ہو تو بتا دوں۔ آپ نے کہا تجھ کو امن ہے۔ اعرابی نے تمام واقعہ بیان کر دیا۔ آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اعرابی نے اسلام قبول کر لیا۔ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن امیہ ضمری اور سلمہ بن اسلم انصاری کو مکہ روانہ کیا کہ وہ وہاں پہنچ کر ابوسفیان کو تنبیہ کریں۔ جب یہ دونوں مکہ میں داخل ہوئے تو یہ ارادہ کیا کہ مسجد حرام میں داخل ہو کر پہلے طواف کر لیں۔ ابوسفیان نے ان کو دیکھ لیا اور چلایا، دیکھو یہ کسی شر کے لیے آئے ہیں۔ عمر بن امیہ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ابوسفیان کے خلاف کارروائی اب ممکن نہیں، بہتر ہے کہ ہم یہاں سے واپس ہولیں۔ چنانچہ وہ لوگ مدینہ چلے آئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader