Urdu book · سیرتِ رسول

سریہ عیص

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

واقعہ حدیبیہ ذوالقعدہ ۶ھ حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے جس کے متصل ایک گاؤں آباد ہے جو اسی نام سے مشہور ہے۔ یہ گاؤں مکہ سے 9 میل کے فاصلہ پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ اور آپ کے اصحاب مکہ پہنچ کر اس کے اندر داخل ہوئے اور وہاں عمرہ کیا۔ اس خواب کے بعد یکم ذی القعدہ ۶ھ کو رسول اللہ عمرہ کے ارادہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ تقریباً پندرہ سو مہاجرین اور انصار آپ کے ساتھ تھے۔ بُسر بن سفیان کو جاسوس بنا کر قریش کی خبر معلوم کرنے کے لیے بھیجا۔ چونکہ جنگ کا ارادہ نہ تھا اس لیے سامان سفر کے سوا کچھ اور اپنے ساتھ نہ رکھا۔ جب غدیر اشطاط پر پہنچے تو آپ کے جاسوس نے آ کر اطلاع دی کہ قریش نے آپ کی خبر پا کر ایک لشکر جمع کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ خالد بن ولد دو سو سواروں کو لے کر مقام عمیم تک پہنچ گئے ہیں۔ رسول اللہ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے اس راستہ کو چھوڑ دیا اور دوسرے راستہ سے نکل کر مقام حدیبیہ پہنچ گئے۔ حدیبیہ میں قیام کرنے کے بعد آپ نے خراش بن امیہ خزاعی کو مکہ بھیجا کہ وہ ان کو بتائیں کہ ہم صرف بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئے ہیں، جنگ کے لیے نہیں۔ جب خراش بن امیہ مکہ آئے تو ان لوگوں نے ان کو پکڑ لیا اور قتل کرنا چاہا۔ لیکن دوسرے لوگوں نے ان کو بچایا۔ واپس آ کر انہوں نے آپ سے تمام واقعات بیان کئے اس کے بعد قریش سے مزید گفتگو ہوتی رہی یہاں تک کہ بدیل بن ورقہ خزاعہ کے چند آدمیوں کے ساتھ آپ کے پاس آیا اور قریش کے عزائم سے آپ کو باخبر کیا۔ رسول اللہ نے کہا کہ ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں۔ ہم عمرہ کے لیے آئے ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو ہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page